NEWS
محسن رضائی کا امریکہ کو دوٹوک پیغام، آبنائے ہرمز پر سات شرائط برقرار
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی سات شرائط پر امریکی جواب کو ناکافی قرار دے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو غیر واضح معاملات کی وضاحت کرنا ہوگی۔
By Site Administrator·October 11, 2026·2 min read·3 views

علامتی تصویر
تہران: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی سات شرائط پر امریکہ کے جواب کو ناکافی قرار دیتے ہوئے واشنگٹن سے باقی ابہامات دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ امریکہ نے ایران کی بعض شرائط قبول کی ہیں، تاہم کچھ معاملات اب بھی غیر واضح ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ کو ان نکات کی وضاحت کرنا ہوگی تاکہ یہ طے ہو سکے کہ مذاکرات کے اگلے مراحل کی جانب پیش رفت ممکن ہے یا نہیں۔
رضائی نے بتایا کہ ایران نے تقریباً دو ہفتے قبل آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکہ کے سامنے سات شرائط پیش کی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے واضح کیا تھا کہ ان شرائط پر عمل درآمد تک امریکہ کے لیے آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی اور نہ ہی مذاکرات آگے بڑھائے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب امریکی جواب دینے کے مرحلے میں نہیں، بلکہ واشنگٹن کو اپنے جواب میں موجود غیر واضح معاملات حل کرنا ہوں گے۔
یہ تجاویز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سامنے آئیں، جن کے تحت شرائط پوری ہونے کی صورت میں سات دن کے اندر آبنائے ہرمز سے معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ امریکہ نے قطر کے ذریعے ایران کو اپنا جواب پہنچایا تھا۔
تاہم امریکی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ امریکہ نے ایران کی کن شرائط کو قبول کیا اور کن نکات پر اختلاف یا ابہام برقرار ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم بحری راستہ ہے۔ اس کے ذریعے جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔ اس راستے میں رکاوٹیں عالمی توانائی کی منڈیوں اور بحری تجارت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
ماخذ: رائٹرز، ارنا، ڈان۔
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ امریکہ نے ایران کی بعض شرائط قبول کی ہیں، تاہم کچھ معاملات اب بھی غیر واضح ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ کو ان نکات کی وضاحت کرنا ہوگی تاکہ یہ طے ہو سکے کہ مذاکرات کے اگلے مراحل کی جانب پیش رفت ممکن ہے یا نہیں۔
رضائی نے بتایا کہ ایران نے تقریباً دو ہفتے قبل آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکہ کے سامنے سات شرائط پیش کی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے واضح کیا تھا کہ ان شرائط پر عمل درآمد تک امریکہ کے لیے آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی اور نہ ہی مذاکرات آگے بڑھائے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب امریکی جواب دینے کے مرحلے میں نہیں، بلکہ واشنگٹن کو اپنے جواب میں موجود غیر واضح معاملات حل کرنا ہوں گے۔
یہ تجاویز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سامنے آئیں، جن کے تحت شرائط پوری ہونے کی صورت میں سات دن کے اندر آبنائے ہرمز سے معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ امریکہ نے قطر کے ذریعے ایران کو اپنا جواب پہنچایا تھا۔
تاہم امریکی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ امریکہ نے ایران کی کن شرائط کو قبول کیا اور کن نکات پر اختلاف یا ابہام برقرار ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم بحری راستہ ہے۔ اس کے ذریعے جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔ اس راستے میں رکاوٹیں عالمی توانائی کی منڈیوں اور بحری تجارت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
ماخذ: رائٹرز، ارنا، ڈان۔
#محسن رضائی، ایران، امریکہ، آبنائے ہرمز، ڈونلڈ ٹرمپ، ایران امریکہ کشیدگی، عالمی خبریں، سات شرائط