شہدادپور کے گوٹھ غلام محمد لغاری میں لغاری خاندان کا احتجاج، سارے مرد گرفتار
شہدادپور کے گوٹھ غلام محمد لغاری کے ایک متاثرہ خاندان نے پولیس کارروائی، خاندان کے مردوں کی گرفتاری، تین زخمی افراد کو ایف آئی آر میں نامزد کیے جانے اور گھروں پر قبضے کے معاملے پر اعلیٰ حکام سے انصاف اور تحفظ کی اپیل کی ہے۔

فائل فوٹو
متاثرہ خاندان کے مطابق واقعے کے بعد خاندان کے متعدد مردوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا، جس کے باعث خاندان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ معاملے میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی ہے جبکہ گرفتار افراد کے حوالے سے بھی انہیں قانونی تحفظ اور شفاف کارروائی کی ضرورت ہے۔
خاندان کے مطابق واقعے میں تین افراد زخمی ہوئے، تاہم ان زخمیوں کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔ متاثرہ خاندان کا مؤقف ہے کہ زخمی افراد کو علاج اور قانونی معاملات کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
متاثرہ خاندان نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس دوران ان کے گھروں پر قبضہ ہو چکا ہے، جس کے باعث خاندان کی رہائش، جان و مال اور مستقبل کے تحفظ کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران متاثرہ خاندان کے نمائندے نے حکومت، پولیس کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، گرفتار افراد کے کیسز کا قانون کے مطابق جائزہ لیا جائے اور زخمی افراد کو مناسب طبی و قانونی سہولیات فراہم کی جائیں۔
خاندان نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی فرد کے خلاف قانونی کارروائی بنتی ہے تو وہ قانون اور شفاف تفتیش کے مطابق کی جائے، جبکہ کسی بھی فریق کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے۔
متاثرہ خاندان نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے گھروں، اہلِ خانہ اور جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور گھروں پر قبضے کے معاملے کا بھی فوری نوٹس لے کر قانونی کارروائی کی جائے۔
یہ تمام نکات متاثرہ خاندان کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف اور فراہم کردہ دستاویزات و وڈیو بیان پر مبنی ہیں۔ معاملے کے دوسرے فریق یا متعلقہ پولیس حکام کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔


