اسلام آباد کی سیاست میں ہلچل، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کی ملاقات، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ بھی جاری
وزیراعظم شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات شروع ہونے کی اطلاع سامنے آئی، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ چارسدہ سے آگے بڑھتے ہوئے مردان اور صوابی کی جانب رواں ہے۔

علامتی تصویر
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور وفاقی حکومت و خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اہم قومی اور سیاسی معاملات پر مشاورت کی۔ تاہم ملاقات کے بعد کسی حتمی معاہدے یا فیصلے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو شروع ہونے کے بعد مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا خیبرپختونخوا میں آگے بڑھ رہا ہے۔ مارچ کی قیادت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کر رہے ہیں اور پارٹی کا بنیادی مطالبہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی ہے۔ مارچ کے آغاز میں اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اس کے راستے اور اگلے مرحلے کے منصوبے میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔
10 اکتوبر کو مارچ چارسدہ میں موجود تھا، جہاں سہیل آفریدی نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے صوبے میں فوجی آپریشنز کے معاملے پر اپنے مؤقف کا اعادہ کیا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے 11 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پر کارکنوں اور حامیوں کو جمع ہونے کی دعوت بھی دی گئی ہے، جہاں مارچ کے اگلے لائحۂ عمل کا اعلان متوقع ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان کشیدگی، انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر اختلافات اور پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ نے سیاسی صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ اب سیاسی حلقوں کی توجہ وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمٰن کی ملاقات کے بعد سامنے آنے والے مؤقف اور صوابی میں پی ٹی آئی کے آئندہ اعلان پر مرکوز ہے۔
آنے والے دنوں میں ان دونوں پیش رفتوں کے اثرات کا اندازہ متعلقہ فریقین کے باضابطہ بیانات اور عملی اقدامات کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔
ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان، ڈان اور ریڈیو پاکستان


