NEWS
ٹرمپ کا زیلنسکی کو نیا صدر منتخب کرنے کا مشورہ، روسی ڈیزل معاہدے پر یوکرین کا سخت ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین میں نئی قیادت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے زیلنسکی پر جنگ ختم کرنے کے لیے مؤثر معاہدہ نہ کرنے کا الزام لگایا۔ دوسری جانب روس سے ڈیزل کی فراہمی کے امریکی فیصلے پر یوکرینی صدر نے تنقید کی ہے۔
By Site Administrator·October 10, 2026·3 min read·5 views

علامتی تصویر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کو ایسی نئی قیادت کی ضرورت ہے جو روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ کر سکے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے روس سے ڈیزل کی فراہمی کے لیے ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے، جس پر یوکرین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، 10 اکتوبر 2026 کو وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کو ایسا نیا رہنما منتخب کرنا چاہیے جو روس کے ساتھ معاہدہ کر سکے۔ انہوں نے زیلنسکی پر الزام لگایا کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے دستیاب مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔
ٹرمپ نے امریکی ڈیزل کی بلند قیمتوں کو بھی یوکرین کی جانب سے روسی توانائی تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں سے جوڑا۔ ان کے مطابق روسی تیل اور توانائی کے مراکز پر حملوں نے ایندھن کی منڈی پر دباؤ بڑھایا ہے۔ یہ ٹرمپ کا مؤقف ہے؛ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کو صرف یوکرینی حملوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
ٹرمپ نے 9 اکتوبر کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے گفتگو کے بعد روس سے ڈیزل کی بڑی مقدار حاصل کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا۔ ان کے اعلان کے مطابق ابتدائی طور پر تین لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل کی فراہمی ہونی ہے، جبکہ بعد کے مراحل میں مزید مقدار فراہم کرنے کا منصوبہ بتایا گیا۔
امریکی انتظامیہ نے اس فیصلے کو ایندھن کی قیمتوں پر قابو پانے کی کوشش سے جوڑا ہے۔ تاہم اس اقدام نے روس کے خلاف پابندیوں کی پالیسی اور یوکرین کی جنگ کے لیے روسی توانائی آمدنی کے ممکنہ استعمال سے متعلق سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روسی ڈیزل کی فراہمی اور پابندیوں میں نرمی کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔ ایکسیوس کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے اس اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ روس کو توانائی کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی جنگ جاری رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
زیلنسکی کے مطابق اگر توانائی سے متعلق پابندیوں میں نرمی کسی ایسے انتظام کا حصہ ہوتی جس کے تحت جنگ کے دوران توانائی تنصیبات پر حملے روکے جاتے، تو اس پر مختلف انداز میں غور کیا جا سکتا تھا۔ ان کا مؤقف ہے کہ روس کو اضافی آمدنی دینے کے بجائے جنگ کے خاتمے کے لیے قابلِ عمل ضمانتوں پر توجہ دینی چاہیے۔
یہ اختلاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی اور یوکرینی نمائندے جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز پر بات چیت کر رہے ہیں۔ روسی ڈیزل معاہدے نے واشنگٹن اور کیف کے درمیان پالیسی اختلافات کو نمایاں کیا ہے، جبکہ یوکرین کو خدشہ ہے کہ روس کی توانائی آمدنی میں اضافہ اس کی فوجی کارروائیوں کو سہارا دے سکتا ہے۔
اسی دوران رائٹرز کے مطابق یوکرین کے شہر زاپوریزیا پر روسی حملے میں 10 اکتوبر کو 20 افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین بچے بھی شامل تھے، جبکہ 18 افراد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ روسی ڈیزل معاہدے کے اعلان کے اگلے روز پیش آیا۔ زیلنسکی نے روسی حملوں کو پابندیوں میں نرمی کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بنایا، تاہم ان واقعات کے درمیان براہِ راست سبب اور نتیجے کا تعلق ثابت شدہ حقیقت کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔
امریکی فیصلے کے بعد اہم سوال یہ ہے کہ آیا واشنگٹن روسی توانائی سے متعلق اپنی پالیسی میں مزید تبدیلیاں کرے گا اور کیا امریکا، یوکرین اور یورپی اتحادی جنگ ختم کرنے کے لیے کسی مشترکہ لائحۂ عمل پر اتفاق کر سکیں گے۔
فی الحال ٹرمپ کے بیان اور زیلنسکی کے ردعمل سے دونوں ممالک کے درمیان پالیسی اختلافات واضح ہوتے ہیں، لیکن اس مرحلے پر کسی حتمی سفارتی نتیجے یا امن معاہدے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ذرائع: ایسوسی ایٹڈ پریس، رائٹرز اور ایکسیوس
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، 10 اکتوبر 2026 کو وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کو ایسا نیا رہنما منتخب کرنا چاہیے جو روس کے ساتھ معاہدہ کر سکے۔ انہوں نے زیلنسکی پر الزام لگایا کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے دستیاب مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔
ٹرمپ نے امریکی ڈیزل کی بلند قیمتوں کو بھی یوکرین کی جانب سے روسی توانائی تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں سے جوڑا۔ ان کے مطابق روسی تیل اور توانائی کے مراکز پر حملوں نے ایندھن کی منڈی پر دباؤ بڑھایا ہے۔ یہ ٹرمپ کا مؤقف ہے؛ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کو صرف یوکرینی حملوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
ٹرمپ نے 9 اکتوبر کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے گفتگو کے بعد روس سے ڈیزل کی بڑی مقدار حاصل کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا۔ ان کے اعلان کے مطابق ابتدائی طور پر تین لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل کی فراہمی ہونی ہے، جبکہ بعد کے مراحل میں مزید مقدار فراہم کرنے کا منصوبہ بتایا گیا۔
امریکی انتظامیہ نے اس فیصلے کو ایندھن کی قیمتوں پر قابو پانے کی کوشش سے جوڑا ہے۔ تاہم اس اقدام نے روس کے خلاف پابندیوں کی پالیسی اور یوکرین کی جنگ کے لیے روسی توانائی آمدنی کے ممکنہ استعمال سے متعلق سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روسی ڈیزل کی فراہمی اور پابندیوں میں نرمی کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔ ایکسیوس کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے اس اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ روس کو توانائی کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی جنگ جاری رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
زیلنسکی کے مطابق اگر توانائی سے متعلق پابندیوں میں نرمی کسی ایسے انتظام کا حصہ ہوتی جس کے تحت جنگ کے دوران توانائی تنصیبات پر حملے روکے جاتے، تو اس پر مختلف انداز میں غور کیا جا سکتا تھا۔ ان کا مؤقف ہے کہ روس کو اضافی آمدنی دینے کے بجائے جنگ کے خاتمے کے لیے قابلِ عمل ضمانتوں پر توجہ دینی چاہیے۔
یہ اختلاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی اور یوکرینی نمائندے جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز پر بات چیت کر رہے ہیں۔ روسی ڈیزل معاہدے نے واشنگٹن اور کیف کے درمیان پالیسی اختلافات کو نمایاں کیا ہے، جبکہ یوکرین کو خدشہ ہے کہ روس کی توانائی آمدنی میں اضافہ اس کی فوجی کارروائیوں کو سہارا دے سکتا ہے۔
اسی دوران رائٹرز کے مطابق یوکرین کے شہر زاپوریزیا پر روسی حملے میں 10 اکتوبر کو 20 افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین بچے بھی شامل تھے، جبکہ 18 افراد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ روسی ڈیزل معاہدے کے اعلان کے اگلے روز پیش آیا۔ زیلنسکی نے روسی حملوں کو پابندیوں میں نرمی کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بنایا، تاہم ان واقعات کے درمیان براہِ راست سبب اور نتیجے کا تعلق ثابت شدہ حقیقت کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔
امریکی فیصلے کے بعد اہم سوال یہ ہے کہ آیا واشنگٹن روسی توانائی سے متعلق اپنی پالیسی میں مزید تبدیلیاں کرے گا اور کیا امریکا، یوکرین اور یورپی اتحادی جنگ ختم کرنے کے لیے کسی مشترکہ لائحۂ عمل پر اتفاق کر سکیں گے۔
فی الحال ٹرمپ کے بیان اور زیلنسکی کے ردعمل سے دونوں ممالک کے درمیان پالیسی اختلافات واضح ہوتے ہیں، لیکن اس مرحلے پر کسی حتمی سفارتی نتیجے یا امن معاہدے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ذرائع: ایسوسی ایٹڈ پریس، رائٹرز اور ایکسیوس
#ڈونلڈ ٹرمپ، ولودیمیر زیلنسکی، ولادیمیر پیوٹن، روس یوکرین جنگ، روسی ڈیزل معاہدہ، امریکی خارجہ پالیسی، عالمی سیاست