امریکہ کے ایران پر نئے فضائی حملے، پاسداران انقلاب کے ٹھکانے نشانہ، ٹرمپ کی سخت وارننگ
امریکہ نے ایران میں پاسداران انقلاب IRGC کے متعدد ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آج مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے امریکی افواج نے ایران میں پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
سینٹ کام کے مطابق یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی اور خطے میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے خلاف پاسداران انقلاب کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ حملے کے ردعمل میں ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر طاقتور حملے کر رہے ہیں جو بارودی سرنگیں بچھانے کی ایران کی ناکام کوش کا جواب ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ "اس وقت آبنائے ہرمز میں کوئی بارودی سرنگ موجود نہیں"۔
ٹرمپ نے حملے کی دوسری وجہ اردن میں امریکی اڈے پر حملہ بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اردن میں امریکی اڈے پر 8 میزائل داغے تھے جنہیں کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکہ کی اس کارروائی پر جوابی ردعمل دیا تو پہلے سے کہیں زیادہ سخت حملہ ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز کے شمالی حصے میں واقع ایران کے جزیرے قشم میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ جبکہ نور نیوز نے بندرگاہی شہر بندر عباس اور جنوبی ساحل پر واقع بندرگاہ چاہ بہار میں بھی دھماکوں کی اطلاعات کی تصدیق کی ہے۔