ٹرمپ کے انکار کے باوجود امریکا ایران مذاکرات کی راہ ہموار، قطر کی ثالثی میں نئی کوششیں
ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجویز مسترد کیے جانے کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان رواں ہفتے دوبارہ بات چیت کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں، جبکہ قطر ثالثی کے ذریعے سفارتی رابطوں میں کردار ادا کر رہا ہے۔

علامتی تصویر
ایران نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک امن تجویز پیش کی تھی، جس کے تحت مشرق وسطیٰ میں تمام دشمنیاں روکنے اور سابقہ جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی طرف واپسی کی بات کی گئی تھی۔ یہ تجاویز قطری ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائی گئی تھیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا، تاہم آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کو مخصوص شرائط سے منسلک کیا گیا ہے۔ ان شرائط میں جنگ بندی کی بحالی اور بعض معاشی پابندیوں و منجمد اثاثوں سے متعلق معاملات شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام نے ایرانی تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے امریکی مذاکرات کار آنے والے دنوں میں رابطہ کریں گے۔
آبنائے ہرمز موجودہ بحران میں ایک اہم سفارتی اور تزویراتی مسئلہ بن چکا ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔
تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق نئے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ابھی حتمی طور پر طے نہیں ہوا۔ فی الحال دونوں جانب سے رابطوں اور ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔


