World
ایران کی سعودی عرب کو اہم پیشکش، یمن سے مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور سعودی عرب و یمن کے درمیان مذاکرات شروع کرانے میں سہولت کاری کی پیشکش کی۔
By Site Administrator·October 12, 2026·1 min read·0 views

علامتی تصویر
ایران نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات کے آغاز میں سہولت کاری کی پیشکش کی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور سفارتی سطح پر تناؤ کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، گفتگو میں خطے کی تازہ صورتِ حال اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
عراقچی نے اپنے ٹیلی گرام پیغام میں کہا کہ ایران سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ضروری تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، فوجی راستے پر اصرار اور سیاسی حل کو نظرانداز کرنے سے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
یہ رابطہ ایسے وقت ہوا ہے جب یمن کے حوثی گروہ کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ رائٹرز کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ حالیہ رابطوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
تاہم، اس پیشکش کو ایران اور سعودی عرب کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے آغاز کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، ایران نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان مکالمے میں سہولت کاری کی پیشکش کی ہے، جبکہ دونوں وزرائے خارجہ کی گفتگو میں علاقائی کشیدگی کم کرنے کے امور زیرِ بحث آئے۔
ماخذ: رائٹرز، الجزیرہ
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، گفتگو میں خطے کی تازہ صورتِ حال اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
عراقچی نے اپنے ٹیلی گرام پیغام میں کہا کہ ایران سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ضروری تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، فوجی راستے پر اصرار اور سیاسی حل کو نظرانداز کرنے سے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
یہ رابطہ ایسے وقت ہوا ہے جب یمن کے حوثی گروہ کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ رائٹرز کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ حالیہ رابطوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
تاہم، اس پیشکش کو ایران اور سعودی عرب کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے آغاز کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، ایران نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان مکالمے میں سہولت کاری کی پیشکش کی ہے، جبکہ دونوں وزرائے خارجہ کی گفتگو میں علاقائی کشیدگی کم کرنے کے امور زیرِ بحث آئے۔
ماخذ: رائٹرز، الجزیرہ
#ایران، سعودی عرب، یمن، عباس عراقچی، فیصل بن فرحان، مشرق وسطیٰ، سفارتی رابطے، علاقائی کشیدگی


