ایران پر ٹرمپ کا نیا وار، پاکستان بھی زد میں
امریکا نے ایران کی وزارتِ دفاع کے لیے مبینہ طور پر اسلحہ اور متعلقہ پرزوں کی خریداری میں مدد دینے والے 10 افراد و اداروں پر پابندیاں عائد کر دیں، جن میں پاکستان سے وابستہ افراد و ادارے بھی شامل ہیں۔

علامتی تصویر
رائٹرز کے مطابق نئی پابندیوں کی زد میں چین، ہانگ کانگ اور پاکستان سے وابستہ بعض افراد اور ادارے بھی شامل ہیں۔ امریکی اقدام کا مقصد ایران کی فوجی ضروریات کے لیے بیرونِ ملک سے سامان اور ٹیکنالوجی کے حصول کے ذرائع کو محدود کرنا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کے خلاف جاری وسیع تر معاشی دباؤ کا حصہ ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کے ذریعے ایران کی جانب سے اپنے ہتھیاروں کے پروگرام کو دوبارہ مضبوط بنانے کی صلاحیت کو متاثر کرنے اور اس کے لیے خریداری میں مدد دینے والوں کی لاگت بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کو مادی، تکنیکی یا مالی معاونت فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔
یہ نئی پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی زیرِ بحث ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے امکانات بھی عالمی توجہ کا مرکز ہیں۔
پاکستان سے وابستہ افراد اور اداروں کا نئی امریکی پابندیوں میں شامل ہونا اسلام آباد کے لیے بھی اس پیش رفت کو اہم بناتا ہے، تاہم امریکی پابندیوں میں نام شامل ہونا بذاتِ خود پاکستان کی ریاستی پالیسی یا حکومت کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔
امریکی اقدام کے بعد ایران سے متعلق پابندیوں، خطے میں جاری کشیدگی اور پاکستان پر ممکنہ سفارتی و معاشی اثرات پر بھی توجہ بڑھ سکتی ہے۔


