ٹرمپ کے روسی ڈیزل منصوبے کی امریکی سینیٹرز نے مخالفت کر دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روس سے ڈیزل خریدنے کے منصوبے کے خلاف دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے چھ سینیٹرز نے آواز اٹھاتے ہوئے انتظامیہ سے فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

علامتی تصویر
سینیٹرز کے مطابق روس سے توانائی کی خریداری یوکرین جنگ کے تناظر میں ماسکو پر دباؤ برقرار رکھنے اور روس کو جنگ کے لیے مالی وسائل فراہم ہونے سے روکنے کی امریکی کوششوں سے متصادم ہو سکتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ روس سے ڈیزل خریدنے سے متعلق اقدام موجودہ امریکی پابندیوں اور روسی توانائی کی درآمدات پر عائد قانونی پابندیوں کے حوالے سے بھی سوالات پیدا کرتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے روس سے ڈیزل کی فراہمی کے منصوبے کا دفاع توانائی کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش کے طور پر کیا ہے۔ تاہم اس منصوبے پر سینیٹرز کی مخالفت نے امریکی توانائی پالیسی اور یوکرین جنگ کے معاملے پر واشنگٹن میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سینیٹرز نے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس سے توانائی کی خریداری کے ذریعے ماسکو کو مالی فائدہ پہنچانا یوکرین جنگ کے حوالے سے امریکی مؤقف کے خلاف جا سکتا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔
اس معاملے میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ آیا روس سے ڈیزل کی خریداری توانائی کی قیمتوں میں کمی لانے میں مؤثر ثابت ہوگی یا اس کے نتیجے میں روس پر دباؤ برقرار رکھنے کی امریکی پالیسی متاثر ہو سکتی ہے۔
پس منظر: روس کے خلاف امریکی پابندیاں یوکرین جنگ کے بعد واشنگٹن کی پالیسی کا اہم حصہ رہی ہیں۔ روسی ڈیزل کی خریداری کے منصوبے پر تازہ اعتراضات اسی وسیع تر بحث کا حصہ ہیں کہ توانائی کی قیمتوں میں کمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور روس کے خلاف پابندیوں کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔
ماخذ: عرب نیوز، ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز


