امریکی انخلا کے بعد عراق میں طاقت کا نیا توازن؟
عراق سے امریکی افواج کے آخری مرحلے میں انخلا کے بعد ملک میں طاقت کے نئے توازن، ایران نواز گروہوں کے اثر و رسوخ اور داعش کے دوبارہ سرگرم ہونے کے خدشات نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

علامتی تصویر
امریکی فوج 2003 میں عراق پر حملے کے بعد طویل عرصے تک وہاں موجود رہی۔ 2011 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد 2014 میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد دوبارہ عراق آیا۔
اب بین الاقوامی اتحاد کے فوجی مشن کے اختتام کے ساتھ عراق کو اپنی سکیورٹی کی ذمہ داریاں مزید خود سنبھالنا ہوں گی۔ امریکی انخلا کو عراق میں موجود بعض سیاسی اور مسلح گروہ خودمختاری کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
تاہم امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کے ساتھ عراق میں طاقت کے توازن پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق عراقی سکیورٹی حکام اور تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ایران نواز مسلح گروہوں کا اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ امریکی فوجی انٹیلی جنس، ڈرون اور لاجسٹک معاونت میں کمی داعش کے خفیہ نیٹ ورک کے لیے دوبارہ سرگرم ہونے کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
داعش نے 2014 کے بعد عراق کے بڑے علاقوں پر قبضہ کیا تھا، تاہم عراقی فورسز اور بین الاقوامی اتحاد کی کارروائیوں کے نتیجے میں تنظیم کا علاقائی کنٹرول ختم ہوگیا۔ اس کے باوجود تنظیم کے خفیہ سیل اب بھی موجود ہیں اور عراقی سکیورٹی حکام ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایران اور اس کے اتحادی گروہوں نے امریکی انخلا کو اپنے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ عراق گزشتہ برسوں میں امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والا ملک رہا ہے، جس کے باعث بغداد کو دونوں طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا چیلنج بھی درپیش رہا ہے۔
امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد اصل سوال یہ ہے کہ عراق اپنی سکیورٹی اور سیاسی معاملات میں کس حد تک خودمختاری برقرار رکھ پاتا ہے اور خطے میں امریکا، ایران اور دیگر طاقتوں کے درمیان بدلتے تعلقات کا بغداد پر کیا اثر پڑتا ہے۔
رائٹرز کی 29 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق امریکی انخلا کے بعد ایران نواز گروہوں کے بڑھتے اثر و رسوخ اور داعش کے ممکنہ دوبارہ ابھرنے کے خدشات عراق کی سکیورٹی بحث کے اہم موضوعات ہیں۔


