ٹرمپ کا اعتراف: ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں امریکہ شاید حد سے آگے نکل گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوہائیو کے شہر ینگز ٹاؤن میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ شاید ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں حد سے آگے نکل گیا، کیونکہ اب یہ معلوم کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ مذاکرات کس سے کیے جائیں۔

علامتی تصویر
ٹرمپ نے یہ بات امریکی ریاست اوہائیو کے شہر ینگز ٹاؤن میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کے بیان میں ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سفارتی مشکلات کا ذکر نمایاں تھا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کے امکانات عالمی توجہ کا مرکز ہیں۔ تاہم ٹرمپ کے اس تبصرے کو امریکی پالیسی میں باضابطہ تبدیلی یا مذاکرات کی نئی پیش رفت کا اعلان نہیں سمجھنا چاہیے۔
ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے اور سفارتی رابطوں کے درمیان تعلق اس تنازع کا اہم پہلو ہے۔ اگر مذاکرات کے لیے قابلِ قبول فریق کی شناخت مشکل ہو تو سفارتی عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کے بیان نے اسی سوال کو نمایاں کیا ہے۔


