ایران نے امریکا کو نئی وارننگ دے دی
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ نئے امریکی حملے کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور دوبارہ حملے کی صورت میں امریکا کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔

علامتی تصویر
رائٹرز کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار 27 ستمبر کو ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا کے حوالے سے بتایا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ نئے امریکی حملے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ اکرمینیا نے کہا کہ ایرانی افواج کسی بھی محاذ آرائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ایران پر دوبارہ حملہ کیا تو اسے پہلے سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور لڑائی ختم کرنے کی تجویز مسترد کیے جانے کی خبر سامنے آئی۔
رائٹرز کے مطابق ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف امیر حاتمی نے بھی کہا کہ جنگ ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق تہران ایسی صورتحال قبول نہیں کرے گا جس میں ایران تجارت کرنے سے قاصر ہو جبکہ بیرونی طاقتیں خطے کی اہم آبی گزرگاہوں کو استعمال کرتی رہیں۔
ایرانی حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ممکنہ مزید فوجی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر اپنی دفاعی تیاریوں کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں آبنائے ہرمز بھی ایک اہم تنازع بن چکی ہے۔


