ریاست مخالف سرگرمیاں: بلوچستان حکومت نے 100 سرکاری ملازمین برطرف کر دیے
بلوچستان حکومت نے ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مختلف محکموں کے 100 سرکاری ملازمین کو برطرف کر دیا۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں ہر قسم کی سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔

علامتی تصویر
محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون بابر یوسف زئی نے بتایا کہ برطرف ملازمین نے سرکاری حلف کی خلاف ورزی کی اور ریاست مخالف بیانیے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری مراعات لینے کے باوجود پاکستان کے خلاف زہر اگلنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
بابر یوسف زئی کے مطابق برطرف ملازمین میں 95 یونیورسٹی اساتذہ شامل ہیں جبکہ مزید دو اساتذہ کے خلاف کیسز زیر التوا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت کے تین ملازمین سمیت پانچ سرکاری ملازمین کو ریاست مخالف بیانیہ چلانے پر برطرف کیا گیا۔
دوسری جانب حکومت بلوچستان نے سرکاری تعلیمی اداروں میں ہر قسم کی سیاسی، تنظیمی اور دیگر سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف کالجز اینڈ ہائیر ایجوکیشن بلوچستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں صوبے کے تمام سرکاری بوائز، گرلز، پوسٹ گریجویٹ، ڈگری اور انٹر کالجز میں کسی بھی قسم کی تقریب، تنظیمی سرگرمی یا اجتماع کے انعقاد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق متعلقہ مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی تنظیم یا گروپ کی جانب سے کوئی تقریب یا سرگرمی منعقد نہیں کی جا سکے گی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف بی ای ڈی اے رولز کے تحت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
تمام پرنسپلز کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔


