Technology
چین ٹریکٹر اور ڈرون کے ذریعے برطانوی کسانوں کی جاسوسی کر سکتا ہے: رپورٹ
برطانوی تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ چین جی پی ایس ٹریکٹر، ڈرون اور آبپاشی کے نظام میں لگے چپس کے ذریعے برطانیہ کی فوڈ سیکیورٹی کا ڈیٹا چوری کر سکتا ہے۔
By Site Administrator·September 5, 2026·2 min read·25 views
Asian Century Newsلندن: برطانیہ کے ایک تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ چین ٹریکٹر اور دیگر انٹرنیٹ سے منسلک زرعی مشینری کے ذریعے برطانوی کسانوں کی جاسوسی کر سکتا ہے۔
کوئلیشن آن سیکیور ٹیکنالوجی یعنی سی ایس ٹی کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی خوراک کی پیداوار "خطرناک حد تک" ایک "پوشیدہ سیکیورٹی رسک" سے دوچار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جی پی ایس سے چلنے والے ٹریکٹر، زرعی ڈرون اور خودکار آبپاشی کے نظام میں اب چینی ساختہ چپس عام ہو چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چین سے منسلک گروپ زرعی آلات کو ہیک کر کے برطانوی فارموں کی پیداوار کی جاسوسی کر سکتے ہیں اور برطانیہ کی خوراک کی فراہمی کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
سی ایس ٹی نے مزید کہا کہ اسمارٹ تھرموسٹیٹ اور فریج جیسے گھریلو آلات بھی چینی جاسوسی کے لیے خطرے سے دوچار ہیں۔ دنیا بھر میں 70 فیصد انٹرنیٹ آف تھنگز ماڈیول چین میں بنتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "اگرچہ زراعت کو روایتی طور پر توانائی یا ٹیلی کمیونیکیشن جیسا اہم انفراسٹرکچر نہیں سمجھا جاتا، لیکن خوراک کی پیداوار کے ڈیجیٹل ہونے کی وجہ سے زرعی نظام برطانیہ کی خوراک کی سلامتی کے لیے حکمت عملی کے لحاظ سے اہم ہو گئے ہیں۔"
سی ایس ٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منسلک زرعی ٹیکنالوجی کو "ابھرتے ہوئے قومی استحکام کے خطرے" کے طور پر دیکھے اور "زیادہ خطرے والے غیر ملکی کنٹرول والے مواصلاتی اجزاء پر انحصار کم کرنے" کی حکمت عملی بنائے۔
سی ایس ٹی کے سربراہ اور لیبر رکن پارلیمنٹ گرائم ڈاؤنی نے کہا: "چینی ساختہ ٹیکنالوجی سے خطرہ صرف الیکٹرک گاڑیوں اور بجلی کے نظام تک محدود نہیں ہے۔ ہم پہلے ہی شاہی بحریہ کے آلات سے ڈیٹا کو خفیہ طور پر چین بھیجے جاتے دیکھ چکے ہیں۔ وہی کمزوری اب ہمارے کھیتوں میں بھی موجود ہے۔"
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین اس جاسوسی سے فصل کی پیداوار، پیشگوئیوں اور مویشیوں کی تعداد کا ڈیٹا جمع کر سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر آلات کو "کل سوئچ" کے ذریعے بند بھی کر سکتا ہے۔
ماخذ: دی ٹیلی گراف
کوئلیشن آن سیکیور ٹیکنالوجی یعنی سی ایس ٹی کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی خوراک کی پیداوار "خطرناک حد تک" ایک "پوشیدہ سیکیورٹی رسک" سے دوچار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جی پی ایس سے چلنے والے ٹریکٹر، زرعی ڈرون اور خودکار آبپاشی کے نظام میں اب چینی ساختہ چپس عام ہو چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چین سے منسلک گروپ زرعی آلات کو ہیک کر کے برطانوی فارموں کی پیداوار کی جاسوسی کر سکتے ہیں اور برطانیہ کی خوراک کی فراہمی کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
سی ایس ٹی نے مزید کہا کہ اسمارٹ تھرموسٹیٹ اور فریج جیسے گھریلو آلات بھی چینی جاسوسی کے لیے خطرے سے دوچار ہیں۔ دنیا بھر میں 70 فیصد انٹرنیٹ آف تھنگز ماڈیول چین میں بنتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "اگرچہ زراعت کو روایتی طور پر توانائی یا ٹیلی کمیونیکیشن جیسا اہم انفراسٹرکچر نہیں سمجھا جاتا، لیکن خوراک کی پیداوار کے ڈیجیٹل ہونے کی وجہ سے زرعی نظام برطانیہ کی خوراک کی سلامتی کے لیے حکمت عملی کے لحاظ سے اہم ہو گئے ہیں۔"
سی ایس ٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منسلک زرعی ٹیکنالوجی کو "ابھرتے ہوئے قومی استحکام کے خطرے" کے طور پر دیکھے اور "زیادہ خطرے والے غیر ملکی کنٹرول والے مواصلاتی اجزاء پر انحصار کم کرنے" کی حکمت عملی بنائے۔
سی ایس ٹی کے سربراہ اور لیبر رکن پارلیمنٹ گرائم ڈاؤنی نے کہا: "چینی ساختہ ٹیکنالوجی سے خطرہ صرف الیکٹرک گاڑیوں اور بجلی کے نظام تک محدود نہیں ہے۔ ہم پہلے ہی شاہی بحریہ کے آلات سے ڈیٹا کو خفیہ طور پر چین بھیجے جاتے دیکھ چکے ہیں۔ وہی کمزوری اب ہمارے کھیتوں میں بھی موجود ہے۔"
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین اس جاسوسی سے فصل کی پیداوار، پیشگوئیوں اور مویشیوں کی تعداد کا ڈیٹا جمع کر سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر آلات کو "کل سوئچ" کے ذریعے بند بھی کر سکتا ہے۔
ماخذ: دی ٹیلی گراف

