Technology
گوگل پر 403 ملین یورو کا جرمانہ، لوکیشن ڈیٹا کے استعمال پر یورپی قوانین کی خلاف ورزی
آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے گوگل پر لوکیشن ڈیٹا کی پروسیسنگ سے متعلق یورپی یونین کے GDPR قوانین کی خلاف ورزی پر 403 ملین یورو جرمانہ عائد کردیا۔
By Site Administrator·September 21, 2026·2 min read·22 views

علامتی تصویر
گوگل پر صارفین کے لوکیشن ڈیٹا کی پروسیسنگ سے متعلق یورپی قوانین کی خلاف ورزی پر 403 ملین یورو کا جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔
آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن (DPC) نے 21 ستمبر 2026 کو Google Ireland Limited کے خلاف اپنی تحقیقات کا حتمی فیصلہ جاری کیا۔ یہ تحقیقات 2020 میں یورپی صارفین کے حقوق کی تنظیموں کی شکایات کے بعد شروع کی گئی تھیں۔
تحقیقات میں گوگل کی تین مخصوص سروسز اور فیچرز کا جائزہ لیا گیا، جن میں Web & App Activity، Location History اور Location Accuracy شامل ہیں۔ DPC کے مطابق یہ معاملہ 25 مئی 2018 سے 4 فروری 2020 کے دوران لوکیشن ڈیٹا کی پروسیسنگ سے متعلق تھا۔
آئرش ریگولیٹر نے قرار دیا کہ گوگل نے Web & App Activity اور Location History میں لوکیشن ڈیٹا کی پروسیسنگ کے حوالے سے GDPR کے قانون پسندی اور شفافیت کے تقاضوں کی خلاف ورزی کی۔ Location Accuracy کے معاملے میں بھی کمپنی اپنی قانونی تعمیل ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
DPC کے مطابق گوگل کی جانب سے لوکیشن ڈیٹا کے استعمال اور اس کی مدتِ تحفظ سے متعلق شفافیت میں بھی خامیاں پائی گئیں۔ ریگولیٹر نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث صارفین کو یہ مکمل طور پر معلوم نہ ہو سکتا تھا کہ ان کا لوکیشن ڈیٹا کس طرح استعمال ہو رہا ہے۔
DPC نے مجموعی طور پر 403 ملین یورو کے انتظامی جرمانے عائد کیے اور گوگل کو اپنی ڈیٹا پروسیسنگ کو GDPR کے مطابق بنانے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی ہے۔
گوگل نے کہا ہے کہ یہ معاملہ پرانی پالیسیوں سے متعلق ہے اور کمپنی نے اس عرصے کے بعد صارفین کے کنٹرول، ڈیٹا کی خودکار حذف کاری اور کم درست لوکیشن ڈیٹا محفوظ کرنے سمیت کئی تبدیلیاں کی ہیں۔
یہ جرمانہ آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن کی جانب سے عائد کیے گئے بڑے جرمانوں میں شامل ہے اور یورپ میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے استعمال پر بڑھتی ہوئی regulatory scrutiny کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن (DPC) نے 21 ستمبر 2026 کو Google Ireland Limited کے خلاف اپنی تحقیقات کا حتمی فیصلہ جاری کیا۔ یہ تحقیقات 2020 میں یورپی صارفین کے حقوق کی تنظیموں کی شکایات کے بعد شروع کی گئی تھیں۔
تحقیقات میں گوگل کی تین مخصوص سروسز اور فیچرز کا جائزہ لیا گیا، جن میں Web & App Activity، Location History اور Location Accuracy شامل ہیں۔ DPC کے مطابق یہ معاملہ 25 مئی 2018 سے 4 فروری 2020 کے دوران لوکیشن ڈیٹا کی پروسیسنگ سے متعلق تھا۔
آئرش ریگولیٹر نے قرار دیا کہ گوگل نے Web & App Activity اور Location History میں لوکیشن ڈیٹا کی پروسیسنگ کے حوالے سے GDPR کے قانون پسندی اور شفافیت کے تقاضوں کی خلاف ورزی کی۔ Location Accuracy کے معاملے میں بھی کمپنی اپنی قانونی تعمیل ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
DPC کے مطابق گوگل کی جانب سے لوکیشن ڈیٹا کے استعمال اور اس کی مدتِ تحفظ سے متعلق شفافیت میں بھی خامیاں پائی گئیں۔ ریگولیٹر نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث صارفین کو یہ مکمل طور پر معلوم نہ ہو سکتا تھا کہ ان کا لوکیشن ڈیٹا کس طرح استعمال ہو رہا ہے۔
DPC نے مجموعی طور پر 403 ملین یورو کے انتظامی جرمانے عائد کیے اور گوگل کو اپنی ڈیٹا پروسیسنگ کو GDPR کے مطابق بنانے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی ہے۔
گوگل نے کہا ہے کہ یہ معاملہ پرانی پالیسیوں سے متعلق ہے اور کمپنی نے اس عرصے کے بعد صارفین کے کنٹرول، ڈیٹا کی خودکار حذف کاری اور کم درست لوکیشن ڈیٹا محفوظ کرنے سمیت کئی تبدیلیاں کی ہیں۔
یہ جرمانہ آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن کی جانب سے عائد کیے گئے بڑے جرمانوں میں شامل ہے اور یورپ میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے استعمال پر بڑھتی ہوئی regulatory scrutiny کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
#گوگل، گوگل جرمانہ، لوکیشن ڈیٹا، ڈیٹا پرائیویسی، GDPR، یورپی یونین، آئرلینڈ، ٹیکنالوجی، عالمی خبریں
