چین کا ایران اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر واضح مؤقف
چینی نائب صدر ہان ژینگ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک، بالخصوص خلیجی ریاستوں کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

علامتی تصویر
چینی نائب صدر ہان ژینگ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اختلافات اور تنازعات کو مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بڑے ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی امن اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی خصوصی ذمہ داریاں پوری کریں، قوانین کی پاسداری کریں اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو برقرار رکھیں۔
ہان ژینگ نے کہا کہ چین کا مؤقف ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک، جن میں خلیجی ریاستیں بھی شامل ہیں، کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ایسے یکطرفہ فوجی اقدامات کی مخالفت کی جو اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کرتے ہوں یا سلامتی کونسل کی اجازت کو نظرانداز کرتے ہوں۔
چینی نائب صدر نے اپنی تقریر میں امریکا کا نام براہِ راست نہیں لیا، تاہم ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے معاملے پر واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان سفارتی رابطے اور اختلافات دونوں نمایاں ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے بات چیت میں ایران کی حمایت نہ کرنے پر زور دیا تھا، جبکہ امریکی حکام کے مطابق چین کی جانب سے اس حوالے سے یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔
ہان ژینگ کا تازہ بیان ٹرمپ اور شی جن پنگ کے حالیہ رابطے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ میں چین کی جانب سے خلیجی ممالک کی خودمختاری اور سلامتی پر زور دینے سے ایران کے معاملے پر بیجنگ کے سفارتی مؤقف کا ایک اہم پہلو سامنے آیا ہے۔
چین نے اپنی تقریر میں عالمی تجارت اور صنعتی و رسدی سلسلوں کو مستحکم رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث خطے کی سلامتی اور عالمی تجارت سے متعلق خدشات پہلے ہی نمایاں ہیں۔


