کاکروچ جنتا پارٹی نے بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے 48 گھنٹے میں استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کی وارننگ دی ہے۔ پارٹی کے سربراہ ابھجیت دپکے نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران یہ اعلان کیا۔
بھارت میں انتخابی عمل سے متعلق تنازع کے درمیان کاکروچ جنتا پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے 48 گھنٹے کے اندر استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ مقررہ مدت میں استعفیٰ نہ دیا گیا تو ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے قومی کنوینر ابھجیت دپکے نے 24 ستمبر کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران یہ اعلان کیا۔ پارٹی کے مطابق احتجاج کا اگلا مرحلہ نئی دہلی میں غیر معینہ دھرنے کی صورت اختیار کر سکتا ہے، جسے اس نے ’’جنتا منتر 2.0‘‘ کا نام دیا ہے۔
یہ مطالبہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل اور الیکشن کمیشن کے اندر بعض فیصلوں پر سامنے آنے والے اختلافات کی رپورٹس کے بعد کیا گیا ہے۔ بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق دو الیکشن کمشنروں نے گزشتہ دس ماہ کے دوران بعض معاملات پر متعدد مرتبہ سوالات یا تحفظات ریکارڈ کرائے تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے انتخابی فہرستوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی آزادانہ تحقیقات، بعض اخراجات کو روکنے اور متعلقہ ریکارڈ کو محفوظ رکھنے سمیت دیگر مطالبات بھی پیش کیے ہیں۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں میں ناموں کے اخراج اور متعلقہ فیصلوں کی مکمل وضاحت ہونی چاہیے۔
دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن نے ان معاملات کی مختلف انداز میں وضاحت کی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ادارے کے اندر اختلافِ رائے فیصلہ سازی کا معمول کا حصہ ہے اور اس عرصے میں کیے گئے فیصلے متفقہ طور پر ہوئے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن اور ملک گیر احتجاج کی وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت میں انتخابی فہرستوں اور الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار پر سیاسی بحث جاری ہے۔
25 ستمبر 2026