حوثیوں کی یمن میں بڑی پیش قدمی: باب المندب پر کنٹرول مضبوط، سعودی ولی عہد نے ٹرمپ سے مدد مانگی
یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل پر بڑی پیش قدمی کر کے باب المندب پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ٹرمپ سے فوجی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

علامتی تصویر
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ایک ذریعے نے بی سی کو بتایا کہ ایران کی حمایت یافتہ اس گروہ نے باب المندب کی آبنائے میں گزرگاہ کے دہانے پر واقع پیریم جزیرے پر قبضہ کر لیا ہے۔
اس سے قبل یہ پیش رفت سامنے آئی تھی کہ فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز سے اہم ساحلی شہر مخا کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ ایک یمنی فوجی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حوثی اب پوری ساحلی پٹی پر قابض ہیں۔
حوثیوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں، تاہم انہوں نے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی دہرائی۔
اس معاملے سے واقف دو ذرائع نے بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ذاتی طور پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے خلاف فوجی کارروائی کریں۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اب تک امریکی فوج کو براہ راست مداخلت سے دور رکھا ہے اور صرف انٹیلی جنس اور اہداف کی نشاندہی سے متعلق مدد کی پیشکش کی ہے۔
بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا: 'علاقائی استحکام کے حوالے سے ہم سعودی عرب اور جمہوریہ یمن کی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔'
جمعہ کے روز یمن کی حکومت نواز فورسز پریم سے پیچھے ہٹ گئیں۔ عینی شاہدین اور خبر رساں اداروں کے مطابق اس کے بعد حوثی فورسز جزیرے میں داخل ہو گئیں۔
بعد میں حوثیوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حمایت یافتہ فورسز کو باہر نکالنے کے لیے ان کی فوجی کارروائی 'کامیاب' رہی اور 'سعودی بحری جہازوں کے علاوہ تمام کمپنیوں کے لیے سمندری آمد و رفت محفوظ ہے'۔
حوثی فوج کے ترجمان یحیی سربع نے کہا کہ یہ 'وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی' تین ستمبر کو سعودی عرب کی جانب سے 'ہمارے عزیز عوام کے خلاف کھلی جارحیت' کے جواب میں شروع کی گئی تھی۔
سربع نے یہ بھی کہا کہ حوثیوں نے تعز اور الحدیدہ کے علاقوں کے چھ اضلاع سے 'دشمن کی' فورسز کو باہر نکالا ہے، اور دعویٰ کیا کہ سینکڑوں فوجی ہلاک، زخمی یا گرفتار ہوئے ہیں۔
سعودی عرب نے حالیہ پیش رفت پر تاحال عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
پیریم جزیرہ باب المندب کی آبنائے کے سب سے تنگ حصے پر واقع ہے، اور امریکہ و ایران کے درمیان تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے بعد اس علاقے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
سعودی عرب اپنی ایشیا میں اپنے صارفین تک تیل کی ترسیل کے لیے بحیرہ احمر اور باب المندب کی آبنائے پر انحصار کر رہا ہے۔
مانیٹرنگ ڈیسک


