ایران جنگ کے باعث ٹرمپ کی انتخابی مشکلات میں اضافہ، مہنگائی سے ریپبلکنز کی حمایت متاثر ہونے لگی
ایران جنگ کے بعد ایندھن کی بڑھتی قیمتیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے انتخابی چیلنج بن رہی ہیں۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق، آئیووا میں ڈیزل کی قیمت 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرنے کے بعد بعض دیہی ووٹرز میں ریپبلکنز کی حمایت کے حوالے سے ہچکچاہٹ سامنے آئی ہے۔

علامتی تصویر
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ریاست آئیووا میں زرعی شعبے سے وابستہ بعض افراد اور ووٹرز میں ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے بارے میں پہلے جیسا جوش دکھائی نہیں دے رہا۔ رپورٹ میں اس تبدیلی کی ایک اہم وجہ ایران جنگ کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ بتایا گیا ہے۔
زرعی برادری کے لیے نشریاتی پروگرام کرنے والے 42 سالہ مائیک پیئرسن نے اخبار کو بتایا کہ فروری میں انہیں یقین تھا کہ آئیووا میں ریپبلکنز کی پوزیشن مضبوط ہے، تاہم ڈیزل کی قیمت 6 ڈالر فی گیلن سے بڑھنے کے بعد انہوں نے بعض ووٹرز میں ہچکچاہٹ محسوس کی۔ ان کے مطابق، یہ تبدیلی ان کسانوں میں بھی دیکھی جا رہی ہے جو اصولی طور پر ٹرمپ کے حامی ہیں۔
امریکا میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ خاص طور پر زرعی اور دیہی معیشت کے لیے اہم ہے، کیونکہ کھیتی باڑی، فصلوں کی نقل و حمل اور دیگر کئی سرگرمیاں اس ایندھن پر انحصار کرتی ہیں۔ بڑھتے اخراجات کسانوں اور کاروباری افراد پر مالی دباؤ ڈالتے ہیں، جس سے حکومتی معاشی پالیسیوں پر عوامی ردعمل متاثر ہو سکتا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق، ڈیموکریٹ امیدوار بھی اپنی انتخابی مہم میں مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کو نمایاں کر رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کے ذریعے وہ ایسے ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو معاشی صورتِ حال سے ناخوش ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ آئیووا سمیت بعض ریاستوں میں انتخابی مقابلے توقع سے زیادہ سخت دکھائی دے رہے ہیں۔
آئیووا میں ڈیموکریٹ امیدوار جوش ٹورک اور ٹرمپ کی حمایت یافتہ ریپبلکن امیدوار ایشلے ہنسن کے درمیان مقابلہ بھی رپورٹ کا اہم حصہ ہے۔ فنانشل ٹائمز نے ریئل کلیئر پولیٹکس کے انتخابی جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں امیدواروں کے درمیان فرق انتہائی کم تھا۔
تاہم، انتخابی نتائج کا انحصار صرف ایندھن کی قیمتوں پر نہیں ہوگا۔ ووٹروں کی شرکت، دیگر معاشی مسائل، امیدواروں کی مقبولیت اور انتخابی مہم کے دوران ہونے والی تبدیلیاں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔
اگر ریپبلکن پارٹی سینیٹ میں اپنی اکثریت کھو دیتی ہے تو ٹرمپ کے لیے قانون سازی اور حکومتی ترجیحات آگے بڑھانا مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ایندھن کی قیمتوں اور معاشی دباؤ کا معاملہ محض عوامی شکایت نہیں بلکہ ان کی جماعت کے انتخابی مستقبل سے بھی جڑ گیا ہے۔
ماخذ: فنانشل ٹائمز


