BREAKING · Live
No breaking news right now
View all
ACN — Asian Century NewsAsian Century NewsTruth. Insight. Impact.
WorldPoliticsBusinessTechnologyOpinionClimateSportMore
Back to Politics
Politics

خیبر پختونخوا میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، اجتماعی استعفوں کا آپشن بھی سامنے آ گیا

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف اپوزیشن نے قانونی محاذ پر کارروائی تیز کر دی ہے۔ محمود خان اچکزئی نے اجتماعی استعفوں کو ایک ممکنہ آپشن قرار دیتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی بات بھی کی ہے۔

By Site Administrator·October 17, 2026·3 min read·25 views
خیبر پختونخوا میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، اجتماعی استعفوں کا آپشن بھی سامنے آ گیا

علامتی تصویر

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی اقدامات کو عدالت میں چیلنج کرنے کے ساتھ مشترکہ سیاسی حکمت عملی تیار کرنے کی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں۔ اس دوران قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے اجتماعی استعفوں کے امکان کا ذکر کیا ہے، جس سے صوبے کی سیاسی صورت حال ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

محمود خان اچکزئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان سے وابستہ رہنماؤں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ درخواست گزاروں نے حکومتی اقدامات کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے مداخلت کی استدعا کی ہے۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ صوبے میں منتخب حکومت کے اختیارات محدود کرنے اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے اقدامات آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں۔ درخواست میں ایمرجنسی کے اعلان، صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات سے متعلق اقدامات اور منتخب صوبائی حکومت کو ہٹانے کے فیصلوں کو بھی چیلنج کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس پارلیمان سے اجتماعی استعفے دینے کا آپشن بھی موجود ہے۔ انہوں نے حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مذاکرات کی ناکامی کو جواز بنا کر خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔

اچکزئی کے بیان میں اجتماعی استعفوں کا ذکر ایک ممکنہ راستے کے طور پر کیا گیا، تاہم دستیاب اطلاعات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اپوزیشن نے استعفے دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے پُرامن اور آئینی جدوجہد پر یقین کا اظہار بھی کیا اور مذاکرات کے امکان کو رد نہیں کیا۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے موجودہ صورت حال پر دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطوں اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔ مجوزہ کانفرنس میں آئین کی بالادستی، پارلیمان کے اختیارات، جمہوری عمل اور خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کے معاملات زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔

اس اقدام کا مقصد مختلف اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر اتفاق پیدا کرنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم کانفرنس کی حتمی تاریخ اور تمام شریک جماعتوں کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔

اس معاملے پر پشاور ہائی کورٹ میں اس سے قبل بھی درخواستیں دائر کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سلمان خان ایڈووکیٹ کی درخواستوں کی سماعت 20 اکتوبر کے لیے مقرر ہونے کی خبر دی گئی تھی۔

یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر قانونی اعتراضات مختلف درخواستوں کے ذریعے عدالت کے سامنے لائے جا رہے ہیں۔ تاہم اچکزئی اور ان کے ساتھیوں کی نئی درخواست کی الگ سماعت کی تاریخ کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

صوبے میں سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ احتجاج اور راستوں کی بندش سے متعلق عوامی مشکلات بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق پشاور میں بعض سڑکوں پر کنٹینرز کی موجودگی اور آمدورفت میں رکاوٹوں کے باعث شہریوں، طلبہ اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ میں مواصلاتی خدمات میں رکاوٹوں کا ذکر بھی کیا گیا۔ ایسی صورت حال میں سیاسی تنازع کے ساتھ معمولاتِ زندگی کی بحالی بھی اہم عوامی مسئلہ بن جاتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں موجودہ صورت حال کا اگلا رخ عدالتی کارروائی، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں اور آل پارٹیز کانفرنس کے ممکنہ نتائج سے واضح ہو سکتا ہے۔ اجتماعی استعفوں کا آپشن سیاسی بحث میں شامل ضرور ہو گیا ہے، لیکن اسے حتمی فیصلے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔

اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھائیں گی، یا مذاکرات اور عدالتی کارروائی کے ذریعے اس تنازع کا حل تلاش کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں آئندہ عدالتی پیش رفت اور سیاسی رہنماؤں کے باضابطہ اعلانات اہم ہوں گے۔
#خیبر پختونخوا، محمود خان اچکزئی، گورنر راج، ایمرجنسی، تحریک تحفظ آئین پاکستان، پشاور ہائی کورٹ، اجتماعی استعفے، آل پارٹیز کانفرنس، پاکستانی سیاست

More in Politics

ملتان میں 15 سالہ یتیم وسیم عباس کی موت، ملزم کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
Politics

ملتان میں 15 سالہ یتیم وسیم عباس کی موت، ملزم کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

بہتر مستقبل کے خواب لیے محنت کرنے والے 15 سالہ یتیم وسیم عباس کی ملتان میں موت کے مقدمے میں گرفتار ملزم کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا۔ واقعے نے کم عمر محنت کش بچوں کی حفاظت اور انصاف کی فراہمی سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔

By Site AdministratorOct 20, 2026
Read more
حیدرآباد میں بزرگ دادا پر بہیمانہ تشدد، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دو ملزمان گرفتار
Politics

حیدرآباد میں بزرگ دادا پر بہیمانہ تشدد، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دو ملزمان گرفتار

حیدرآباد کے علاقے پبن کے گاؤں قبولانی میں بزرگ دادا پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

By Site AdministratorOct 16, 2026
Read more
محمود خان اچکزئی کا سندھ میں گورنر راج کا انتباہ، پانی اور معدنی وسائل کے تنازعات پر تشویش
Politics

محمود خان اچکزئی کا سندھ میں گورنر راج کا انتباہ، پانی اور معدنی وسائل کے تنازعات پر تشویش

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے خبردار کیا کہ پانی، معدنی وسائل اور دریاؤں کے تنازعات کے باعث سندھ میں بھی گورنر راج کی نوبت آ سکتی ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے فیصلے واپس لینے اور سیاسی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

By Site AdministratorOct 14, 2026
Read more
ACN — Asian Century NewsAsian Century News

Independent journalism. Global perspective. Real impact.

Explore

  • World
  • Politics
  • Business
  • Technology
  • Climate
  • Sport
  • Video
  • Explore

About

  • About Us
  • Our Team
  • Careers
  • Press Room

Support

  • Help Center
  • Contact Us
© 2026 Asian Century News. All rights reserved.·Created by: TZT Software Solution
Privacy PolicyTerms of Service