خیبر پختونخوا میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، اجتماعی استعفوں کا آپشن بھی سامنے آ گیا
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف اپوزیشن نے قانونی محاذ پر کارروائی تیز کر دی ہے۔ محمود خان اچکزئی نے اجتماعی استعفوں کو ایک ممکنہ آپشن قرار دیتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی بات بھی کی ہے۔

علامتی تصویر
محمود خان اچکزئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان سے وابستہ رہنماؤں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ درخواست گزاروں نے حکومتی اقدامات کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے مداخلت کی استدعا کی ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ صوبے میں منتخب حکومت کے اختیارات محدود کرنے اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے اقدامات آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں۔ درخواست میں ایمرجنسی کے اعلان، صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات سے متعلق اقدامات اور منتخب صوبائی حکومت کو ہٹانے کے فیصلوں کو بھی چیلنج کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
پشاور ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس پارلیمان سے اجتماعی استعفے دینے کا آپشن بھی موجود ہے۔ انہوں نے حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مذاکرات کی ناکامی کو جواز بنا کر خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔
اچکزئی کے بیان میں اجتماعی استعفوں کا ذکر ایک ممکنہ راستے کے طور پر کیا گیا، تاہم دستیاب اطلاعات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اپوزیشن نے استعفے دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے پُرامن اور آئینی جدوجہد پر یقین کا اظہار بھی کیا اور مذاکرات کے امکان کو رد نہیں کیا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے موجودہ صورت حال پر دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطوں اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔ مجوزہ کانفرنس میں آئین کی بالادستی، پارلیمان کے اختیارات، جمہوری عمل اور خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کے معاملات زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔
اس اقدام کا مقصد مختلف اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر اتفاق پیدا کرنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم کانفرنس کی حتمی تاریخ اور تمام شریک جماعتوں کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔
اس معاملے پر پشاور ہائی کورٹ میں اس سے قبل بھی درخواستیں دائر کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سلمان خان ایڈووکیٹ کی درخواستوں کی سماعت 20 اکتوبر کے لیے مقرر ہونے کی خبر دی گئی تھی۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر قانونی اعتراضات مختلف درخواستوں کے ذریعے عدالت کے سامنے لائے جا رہے ہیں۔ تاہم اچکزئی اور ان کے ساتھیوں کی نئی درخواست کی الگ سماعت کی تاریخ کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
رپورٹ میں مواصلاتی خدمات میں رکاوٹوں کا ذکر بھی کیا گیا۔ ایسی صورت حال میں سیاسی تنازع کے ساتھ معمولاتِ زندگی کی بحالی بھی اہم عوامی مسئلہ بن جاتی ہے۔
خیبر پختونخوا میں موجودہ صورت حال کا اگلا رخ عدالتی کارروائی، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں اور آل پارٹیز کانفرنس کے ممکنہ نتائج سے واضح ہو سکتا ہے۔ اجتماعی استعفوں کا آپشن سیاسی بحث میں شامل ضرور ہو گیا ہے، لیکن اسے حتمی فیصلے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھائیں گی، یا مذاکرات اور عدالتی کارروائی کے ذریعے اس تنازع کا حل تلاش کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں آئندہ عدالتی پیش رفت اور سیاسی رہنماؤں کے باضابطہ اعلانات اہم ہوں گے۔


