محمود خان اچکزئی کا سندھ میں گورنر راج کا انتباہ، پانی اور معدنی وسائل کے تنازعات پر تشویش
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے خبردار کیا کہ پانی، معدنی وسائل اور دریاؤں کے تنازعات کے باعث سندھ میں بھی گورنر راج کی نوبت آ سکتی ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے فیصلے واپس لینے اور سیاسی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

علامتی تصویر
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، اچکزئی نے اپنے خطاب میں حکومت کے صوبائی معاملات سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر تنقید کی اور کہا کہ ایسے اقدامات سیاسی محاذ آرائی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے پانی، معدنی وسائل اور دریاؤں سے متعلق تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے سندھ کے حوالے سے خبردار کیا۔
انہوں نے کہا اگلا گورنر راج سندھ میں پانی، معدنیات اور دریاؤں پر قبضے کے معاملے پر لگے گا، اور پھر آپ کو یاد آئے گا کہ آپ نے کیا غلطی کی۔ یہ ان کے انگریزی بیان کا اردو مفہوم ہے، جسے اخبار نے رپورٹ کیا۔
اچکزئی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ انہیں دکھ ہے کہ ان کے سندھی بھائی اس معاملے میں شریک ہوئے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ صوبائی حقوق اور وسائل کے معاملات کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کے بجائے سیاسی مکالمے کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ نے آج خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد کی منظوری دی۔ رپورٹ کے مطابق، حکومتی ارکان نے اس اقدام کا دفاع کیا، جبکہ اپوزیشن نے اس پر اعتراضات اٹھائے۔
وفاقی حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مبینہ عدم تعاون کو اپنے اقدام کی وجوہات قرار دیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے صوبے کے انتخابی مینڈیٹ کے خلاف اقدام قرار دیا۔
اچکزئی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق فیصلے واپس لیے جائیں۔ انہوں نے پارلیمان کو حقیقی اختیارات کا مرکز بنانے اور سیاسی اختلافات کا حل جمہوری طریقے سے نکالنے پر زور دیا۔
اپنے خطاب میں اچکزئی نے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ حکومتی رویے پر تنقید کی۔ انہوں نے انتخابی نشان اور انتخابی عمل سے متعلق مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ سیاسی اختلافات کی سزا پوری آبادی کو کیوں دی جائے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے لوگوں کو احتجاج یا مزاحمت کی اپیل کو گالی گلوچ اور تشدد کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے حکام کے رویے اور سیاسی مخالفین سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بھی اعتراض کیا۔


