World
ایران کا امریکہ کو سخت انتباہ، مجتبیٰ خامنہ ای نے فوج کو فوری جواب کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ممکنہ دشمن خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے، جبکہ ایرانی فوج کی دفاعی تیاریوں اور اہداف کی فہرست کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
By Site Administrator·October 31, 2026·2 min read·3 views

علامتی تصویر
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کو سخت انتباہ کرتے ہوئے ایرانی مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈروں کو کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایات ہفتے کو اعلیٰ فوجی قیادت سے ملاقات کے دوران جاری کی گئیں۔
ایرانی سرکاری بیان کے مطابق خامنہ ای نے کہا کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی نوعیت یا سطح کے خطرے کا جواب فوری، مؤثر اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دشمن دوبارہ فوجی یا دہشت گرد حملے شروع کرتا ہے تو جنگ کے خاتمے کا وقت اور شرائط ایران کی مسلح افواج اور ایرانی قوم طے کریں گی۔
سپریم لیڈر نے فوجی کمانڈروں کو ہدایت کی کہ ایران کے دفاعی اور جنگی نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے، فوجی انٹیلی جنس کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دفاعی و سکیورٹی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ خامنہ ای نے اہداف کی فہرست کو اپ ڈیٹ کرنے کا حکم دیا تاکہ امریکہ اور اسرائیل سے متعلق مادی اور غیر مادی اثاثے ایرانی مسلح افواج کی پہنچ میں ہوں۔
ملاقات میں ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی، ایرانی فوج کے کمانڈر میجر جنرل امیر حاتمی اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل احمد وحیدی بھی موجود تھے۔ فوجی کمانڈروں نے سپریم لیڈر کو خلیج فارس کے ساحلی علاقوں، آبنائے ہرمز، بحیرہ عمان اور ایران کی شمال مغربی و جنوب مشرقی سرحدوں پر دفاعی تیاریوں سے متعلق بریفنگ دی۔
ایرانی حکام کے مطابق کمانڈروں نے مختلف اقسام کے گولہ بارود، نگرانی کے آلات، معاون اور جنگی ہتھیاروں کی پیداوار میں کئی گنا اضافے سے بھی آگاہ کیا۔ خامنہ ای نے فوجی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، بسیج اور وزارت دفاع کے اہلکاروں کی خدمات کو سراہا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ فوجی کشیدگی کے خدشات برقرار ہیں اور قطر و پاکستان سمیت علاقائی ممالک سفارتی رابطوں کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم خامنہ ای کے بیان میں کسی نئے ایرانی حملے کے آغاز کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ایرانی سرکاری بیان کے مطابق خامنہ ای نے کہا کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی نوعیت یا سطح کے خطرے کا جواب فوری، مؤثر اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دشمن دوبارہ فوجی یا دہشت گرد حملے شروع کرتا ہے تو جنگ کے خاتمے کا وقت اور شرائط ایران کی مسلح افواج اور ایرانی قوم طے کریں گی۔
سپریم لیڈر نے فوجی کمانڈروں کو ہدایت کی کہ ایران کے دفاعی اور جنگی نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے، فوجی انٹیلی جنس کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دفاعی و سکیورٹی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ خامنہ ای نے اہداف کی فہرست کو اپ ڈیٹ کرنے کا حکم دیا تاکہ امریکہ اور اسرائیل سے متعلق مادی اور غیر مادی اثاثے ایرانی مسلح افواج کی پہنچ میں ہوں۔
ملاقات میں ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی، ایرانی فوج کے کمانڈر میجر جنرل امیر حاتمی اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل احمد وحیدی بھی موجود تھے۔ فوجی کمانڈروں نے سپریم لیڈر کو خلیج فارس کے ساحلی علاقوں، آبنائے ہرمز، بحیرہ عمان اور ایران کی شمال مغربی و جنوب مشرقی سرحدوں پر دفاعی تیاریوں سے متعلق بریفنگ دی۔
ایرانی حکام کے مطابق کمانڈروں نے مختلف اقسام کے گولہ بارود، نگرانی کے آلات، معاون اور جنگی ہتھیاروں کی پیداوار میں کئی گنا اضافے سے بھی آگاہ کیا۔ خامنہ ای نے فوجی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، بسیج اور وزارت دفاع کے اہلکاروں کی خدمات کو سراہا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ فوجی کشیدگی کے خدشات برقرار ہیں اور قطر و پاکستان سمیت علاقائی ممالک سفارتی رابطوں کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم خامنہ ای کے بیان میں کسی نئے ایرانی حملے کے آغاز کا اعلان نہیں کیا گیا۔
#ایران، امریکہ، مجتبیٰ خامنہ ای، ایرانی فوج، ایران امریکہ کشیدگی، مشرق وسطیٰ، فوجی تیاری، عالمی خبریں


