World
ایران پر نئے حملوں کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، روبیو کا اہم بیان
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کا فیصلہ نہیں کیا، جبکہ واشنگٹن سفارتی حل کے لیے بھی تیار ہے۔
By Site Administrator·October 31, 2026·1 min read·3 views

علامتی تصویر
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئے فوجی حملے کرنے سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
روبیو نے ہفتے کے روز امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اگر چاہے تو اپنے فوجی اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے مزید فوجی کارروائی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اس حوالے سے کوئی اعلان نہیں کر سکتے اور واشنگٹن کسی بھی ممکنہ فوجی اقدام کو معمولی معاملہ نہیں سمجھتا۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اگر کوئی سفارتی حل ممکن ہوا تو امریکہ اس کے لیے تیار ہوگا۔
روبیو نے مذاکرات میں پیش رفت یا کسی ممکنہ معاہدے کے لیے وقت کی حد بتانے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ قطر کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششوں کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر کی گئی ہے یا نہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور قطر کے نمائندوں نے دوحہ میں مذاکرات کیے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ ملاقاتیں تہران میں ایرانی اور قطری حکام کے درمیان طویل بات چیت کے بعد ہوئیں، جبکہ سفارتی رابطوں میں واشنگٹن بھی شامل ہے۔ قطر نے وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات پر مشتمل تجویز پیش کی ہے، تاہم ایک ایرانی عہدیدار نے اسے ناکافی قرار دیا۔
روبیو نے ہفتے کے روز امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اگر چاہے تو اپنے فوجی اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے مزید فوجی کارروائی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اس حوالے سے کوئی اعلان نہیں کر سکتے اور واشنگٹن کسی بھی ممکنہ فوجی اقدام کو معمولی معاملہ نہیں سمجھتا۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اگر کوئی سفارتی حل ممکن ہوا تو امریکہ اس کے لیے تیار ہوگا۔
روبیو نے مذاکرات میں پیش رفت یا کسی ممکنہ معاہدے کے لیے وقت کی حد بتانے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ قطر کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششوں کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر کی گئی ہے یا نہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور قطر کے نمائندوں نے دوحہ میں مذاکرات کیے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ ملاقاتیں تہران میں ایرانی اور قطری حکام کے درمیان طویل بات چیت کے بعد ہوئیں، جبکہ سفارتی رابطوں میں واشنگٹن بھی شامل ہے۔ قطر نے وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات پر مشتمل تجویز پیش کی ہے، تاہم ایک ایرانی عہدیدار نے اسے ناکافی قرار دیا۔
#ایران، امریکہ، مارکو روبیو، ڈونلڈ ٹرمپ، ایران امریکہ کشیدگی، امریکی حملے، سفارت کاری، جی 20، عالمی خبریں


