پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے عرب نیوز کو خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کے تحفظ کے عزم پر بھی قائم ہے۔

علامتی تصویر
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں کے حوالے سے اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان Strategic Mutual Defence Agreement (SMDA) اور Makkah Joint Defence Agreement پر عمل درآمد کے لیے نیت اور روح دونوں کے اعتبار سے پُرعزم ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق، سعودی عرب کے دفاع کے لیے کب، کیسے، کہاں اور کس نوعیت کی فورس استعمال کی جائے گی، کن اہداف کے خلاف کارروائی ہوگی اور کس طریقہ کار کے تحت عمل کیا جائے گا، ان معاملات سے متعلق operational confidentiality کی وجہ سے اس مرحلے پر تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان Strategic Mutual Defence Agreement عملی سطح پر موجود ہے اور دونوں ممالک اپنی متعلقہ مجاز سطحوں پر تعاون کر رہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
وزارتِ خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا Makkah Joint Defence Agreement دفاعی نوعیت کا ہے، جس کا مقصد علاقائی امن و استحکام اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ پاکستان کے مطابق یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور باضابطہ طور پر کوئی نیا بلاک تشکیل نہیں دیتا۔
ذرائع: پاکستان وزارتِ خارجہ
ویب ڈیسک — Asian Century News
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ سفارتی اور عملی طور پر کھڑا ہے اور مملکت کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔
17 ستمبر 2026 کو عرب نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل طور پر کھڑا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی وابستگی صرف سفارتی حمایت تک محدود نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر عملی تعاون بھی شامل ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور اسلام کے دو مقدس ترین مقامات، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے اور سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کی صورت میں دفاع جاری رکھے گا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کو حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق حالیہ حملوں میں سعودی علاقوں میں جانی نقصان بھی ہوا ہے، جبکہ مکہ مکرمہ کے محدود فضائی علاقے کی جانب جانے والے ایک حوثی ڈرون کو بھی روکے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ بھی طے پایا تھا، جس کے تحت پاکستان، سعودی عرب یا ترکیہ میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم معاہدے کی مکمل عملی شقیں عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق پاکستان علاقائی حکومتوں سے مشاورت کے ذریعے وسیع تر بحران کا مذاکرات اور پرامن حل تلاش کر رہا ہے۔
احمد شریف چوہدری نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سعودی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے بھی سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔
ذرائع: عرب نیوز
ویب ڈیسک — Asian Century News


