Climate
پشاور اسکول کی چھت گرنے سے 33 افراد جاں بحق، 32 بچے اور ایک معلمہ شامل
پشاور کے نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر کی چھت گرنے سے رائٹرز کے مطابق 32 بچوں اور ایک معلمہ سمیت 33 افراد جاں بحق جبکہ کم از کم 45 افراد زخمی ہوئے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
By Site Administrator·October 15, 2026·1 min read·20 views

علامتی تصویر
پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے 33 افراد جاں بحق اور کم از کم 45 زخمی ہو گئے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 32 بچے اور ایک معلمہ شامل ہیں۔
یہ حادثہ جمعرات، 15 اکتوبر 2026 کو صبح تقریباً 8 بج کر 48 منٹ پر پشاور کے علاقے افریدی آباد میں واقع الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا، جہاں صبح کی کلاسیں جاری تھیں۔ عمارت کی اوپری منزل کی چھت گرنے سے ملبہ نیچے موجود کلاس رومز پر آ گرا اور عمارت کے دو حصے متاثر ہوئے۔
رائٹرز کے مطابق، حادثے میں جاں بحق ہونے والے زیادہ تر بچوں کی عمریں 13 سال سے کم تھیں۔ کم از کم 45 افراد زخمی ہوئے، جبکہ تین بچوں کی حالت سر پر شدید چوٹیں آنے کے باعث تشویش ناک بتائی گئی۔
حادثے کے بعد امدادی ٹیموں نے ملبے میں پھنسے بچوں اور دیگر افراد کو نکالنے کے لیے کئی گھنٹے کارروائی کی۔ اہل خانہ اور مقامی شہری جائے حادثہ کے قریب جمع رہے، جبکہ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
پشاور پولیس کے سربراہ میاں سعید کے مطابق، اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ ابتدائی معلومات میں عمارت کے ڈھانچے کی کمزوری اور اس پر اضافی بوجھ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا، تاہم حادثے کی حتمی وجہ تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
اس افسوس ناک واقعے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی تعمیر، ان کی مضبوطی اور بچوں کی حفاظت کے انتظامات سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔ متعلقہ حکام کی تحقیقات سے یہ تعین کیا جائے گا کہ عمارت کے ڈھانچے میں کیا خامیاں تھیں اور آیا حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔
یہ حادثہ جمعرات، 15 اکتوبر 2026 کو صبح تقریباً 8 بج کر 48 منٹ پر پشاور کے علاقے افریدی آباد میں واقع الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا، جہاں صبح کی کلاسیں جاری تھیں۔ عمارت کی اوپری منزل کی چھت گرنے سے ملبہ نیچے موجود کلاس رومز پر آ گرا اور عمارت کے دو حصے متاثر ہوئے۔
رائٹرز کے مطابق، حادثے میں جاں بحق ہونے والے زیادہ تر بچوں کی عمریں 13 سال سے کم تھیں۔ کم از کم 45 افراد زخمی ہوئے، جبکہ تین بچوں کی حالت سر پر شدید چوٹیں آنے کے باعث تشویش ناک بتائی گئی۔
حادثے کے بعد امدادی ٹیموں نے ملبے میں پھنسے بچوں اور دیگر افراد کو نکالنے کے لیے کئی گھنٹے کارروائی کی۔ اہل خانہ اور مقامی شہری جائے حادثہ کے قریب جمع رہے، جبکہ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
پشاور پولیس کے سربراہ میاں سعید کے مطابق، اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ ابتدائی معلومات میں عمارت کے ڈھانچے کی کمزوری اور اس پر اضافی بوجھ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا، تاہم حادثے کی حتمی وجہ تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
اس افسوس ناک واقعے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی تعمیر، ان کی مضبوطی اور بچوں کی حفاظت کے انتظامات سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔ متعلقہ حکام کی تحقیقات سے یہ تعین کیا جائے گا کہ عمارت کے ڈھانچے میں کیا خامیاں تھیں اور آیا حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔
#پشاور، اسکول حادثہ، چھت گرنے کا واقعہ، بچوں کی ہلاکتیں، معلمہ، ریسکیو آپریشن، خیبر پختونخوا، پاکستان
