پی ٹی آئی احتجاج سے پہلے بڑا ایکشن، اسلام آباد جانے والی بڑی شاہراہیں آج رات سے بند
27 ستمبر کے پی ٹی آئی لانگ مارچ سے پہلے حکومت نے اسلام آباد جانے والی اہم شاہراہوں کی بندش کا فیصلہ کرلیا، جبکہ مختلف داخلی راستوں پر کنٹینرز اور سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

علامتی تصویر
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق اسلام آباد، پشاور موٹروے ایم ون، اسلام آباد، ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے ایم 14 اور جی ٹی روڈ این فائیو کے مختلف حصے آج بدھ کی رات سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کیے جائیں گے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق ایم ون اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک دونوں سمتوں میں بند رہے گی، جبکہ ایم 14 کو ہکلہ سے کنڈل تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جی ٹی روڈ کو اٹک خورد کے مقام پر دونوں سمتوں میں بند کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق یہ بندش غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتی ہے اور مزید اطلاع تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
حکام کی جانب سے کیے گئے انتظامات میں اسلام آباد اور اٹک کے اہم داخلی راستوں پر بڑے کنٹینرز، رکاوٹیں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی شامل ہے۔ ڈان کے مطابق اٹک میں تقریباً 30 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ اٹک پل اور ہارون پل سمیت اہم مقامات پر کنٹینرز اور ریت کی بوریاں بھی رکھی گئی ہیں۔
اسلام آباد پولیس پہلے ہی شہریوں کو ایم ون استعمال کرنے سے گریز اور غیر ضروری سفر مؤخر کرنے کا مشورہ دے چکی ہے۔ تاہم ایم ٹو موٹروے لاہور سے اسلام آباد کے درمیان ٹریفک کے لیے کھلی رکھنے کی اطلاع دی گئی ہے۔
یہ اقدامات پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ مارچ کا مقصد پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے احتجاج کرنا ہے۔ دوسری جانب حکومتی حکام نے اسلام آباد میں مارچ کی اجازت نہ دینے اور اسے روکنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما شیر علی ارباب نے بھی 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو بڑے پیمانے پر منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم انہوں نے سیاسی مذاکرات کے دروازے بند نہ کرنے کی بات بھی کی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مبینہ چھاپوں اور گرفتاریوں سے متعلق معاملہ زیر سماعت ہے، جبکہ عدالت نے اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز کو 24 ستمبر کو طلب کر رکھا ہے۔
صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی کی جانب آنے جانے والے شہریوں کے لیے آئندہ چند روز میں سفری مشکلات بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ اہم شاہراہوں کی بندش سے ٹریفک کے متبادل راستوں پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔


