امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ۔ ایران نے 4 ملکوں میں امریکی اڈوں پر حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ خوزستان میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب IRGC نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کویت، بحرین، عراق اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائل حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔ IRGC کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں امریکی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکی حکام کی جانب سے ابھی تک ان دعوؤں کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے شہر سرک سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکی حملوں میں شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق شہر سرک میں ایک شادی کی تقریب پر حملے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں 4 سال کا ایک بچہ بھی شامل ہے۔ اس حملے میں 20 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق اس کے علاوہ ایک اسکول پر حملے میں بھی متعدد بچے زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی حکام نے ان حملوں کو "جنگی جرم" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اس بڑھتی ہوئی صورتحال کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی "Tanker for Tanker" پالیسی کا اعلان کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ "خلیج میں ہمارا مکمل کنٹرول ہے"۔ نئی پالیسی کے تحت اگر ایران کوئی امریکی یا اتحادی تیل بردار جہاز روکے گا تو امریکہ بھی جوابی کارروائی کے طور پر ایران کا ایک جہاز قبضے میں لے گا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پالیسی کے اثرات پاکستان سمیت خطے کے کئی ممالک پر مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان یہ تازہ کشیدگی پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔