ٹرمپ کے ردعمل پر عراقچی کا نیا مؤقف، ایران اب بھی امریکی باضابطہ جواب کا منتظر
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ابتدائی ردعمل سن لیا ہے، تاہم ایران اب بھی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے باضابطہ اور حتمی جواب کا منتظر ہے۔

علامتی تصویر
عراقچی نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امریکا کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے اپنی شرائط پہلے ہی ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچا دی ہیں۔ ان کے مطابق تہران اب واشنگٹن کے حتمی جواب کا انتظار کر رہا ہے اور اس جواب کی بنیاد پر آئندہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ایران کی جانب سے پیش کیے گئے سات روزہ منصوبے میں شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے اور ساتویں روز امریکا کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ منصوبے کے تحت ایران نے امریکا سے بعض اقدامات کا مطالبہ کیا تھا، جن میں ایرانی اثاثوں کو غیر منجمد کرنا، ایرانی تیل پر پابندیاں ختم کرنا اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شامل تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو مسترد کرنے کا مؤقف اختیار کیا تھا، تاہم عراقچی کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران امریکی صدر کے ابتدائی عوامی ردعمل کو واشنگٹن کے باضابطہ اور حتمی جواب کے طور پر نہیں دیکھ رہا۔ ایران کے مطابق حتمی مؤقف ثالثوں کے ذریعے موصول ہونے کے بعد ہی تہران اس منصوبے اور آئندہ مذاکرات کے حوالے سے اپنا فیصلہ کرے گا۔
عراقچی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کھولنے یا امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ایران کی شرائط پوری ہونے سے مشروط ہے۔ اس طرح اب معاملے کا اگلا مرحلہ واشنگٹن کے باضابطہ جواب اور اس کے بعد تہران کے فیصلے سے جڑا ہوا ہے۔


