ٹرمپ نے ایرانی امن منصوبہ مسترد کر دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کیے گئے سات روزہ منصوبے کو مسترد کر دیا ہے، جس کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور خطے میں جاری لڑائی ختم کرنے کی تجویز دی تھی۔

علامتی تصویر
ایرانی تجویز میں آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے کے ساتھ خطے میں جاری لڑائی کے خاتمے اور مذاکرات کی طرف واپسی کی بات کی گئی تھی۔ ایران کا مؤقف تھا کہ اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 26 ستمبر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے ایرانی تجویز مسترد کر دی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور لڑائی ختم کرنے کی پیشکش کو رد کرنے کی تصدیق کی۔
اس سے قبل ایرانی حکام نے بتایا تھا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کو ایران کی بعض شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ ان شرائط میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی میں نرمی یا خاتمہ اور دیگر اقدامات شامل تھے۔
آبنائے ہرمز اس تنازع میں ایک اہم مرکزی معاملہ بن چکی ہے، کیونکہ یہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی اور آبنائے کی صورتحال کے باعث عالمی توانائی اور سمندری تجارت پر بھی توجہ مرکوز ہے۔


