ٹرمپ نے شی جن پنگ سے ایران کی مدد روکنے کا مطالبہ
واشنگٹن میں ملاقات کے دوران ٹرمپ نے شی جن پنگ سے ایران کو کسی بھی براہِ راست یا بالواسطہ مدد نہ دینے پر زور دیا، جبکہ امریکی سفیر کے مطابق چین کی جانب سے اس معاملے پر یقین دہانی کرائی گئی۔

علامتی تصویر
امریکی سفیر کے مطابق اس میں انٹیلی جنس، پرزہ جات یا فوجی سازوسامان سمیت کسی بھی نوعیت کی مدد شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو چین کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ ایران کی مدد نہیں کرے گا۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ جاری ہے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایران نے حال ہی میں جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سات روزہ منصوبے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی واشنگٹن ملاقات میں ایران کے علاوہ امریکا اور چین کے درمیان تجارت، مصنوعی ذہانت اور دیگر عالمی و دوطرفہ معاملات بھی زیرِ بحث رہے۔ تین روزہ دورے کے اختتام پر دونوں رہنماؤں کی جانب سے کئی معاملات پر بات چیت ہوئی، تاہم تمام متنازع امور پر کسی بڑے عوامی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ایران کو چین کی مبینہ مدد سے متعلق بعض رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی نوعیت اور تفصیلات الگ الگ ذرائع میں مختلف طور پر بیان کی گئی ہیں۔ چین کی جانب سے ایران کے حوالے سے امریکی مؤقف پر دی گئی یقین دہانی کا ذکر امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے کیا ہے۔


