امریکا چین تجارتی جنگ بندی بڑھانے پر تیار، بڑے معاہدے پر بھی بات چیت
امریکا نے چین کے ساتھ موجودہ تجارتی جنگ بندی میں توسیع یا اس سے بڑے تجارتی معاہدے پر غور کرنے کی آمادگی ظاہر کردی ہے۔ یہ پیش رفت ٹرمپ اور شی جن پنگ کی متوقع ملاقات سے ایک روز قبل سامنے آئی۔

علامتی تصویر
یہ بیان 23 ستمبر کو امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور چینی نائب وزیراعظم ہی لیفینگ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ چار دن میں دوسری ملاقات تھی اور مذاکرات کا مقصد امریکا اور چین کے سربراہان کے آئندہ مذاکرات کے لیے زیرِ التوا معاملات کو آگے بڑھانا تھا۔
موجودہ امریکا چین تجارتی جنگ بندی 10 نومبر کو ختم ہونے والی ہے۔ بیسنٹ کے مطابق چین کی جانب سے اتوار کو ایک بڑے معاہدے کی تجویز سامنے آئی تھی، جس پر امریکا غور کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے ممکنہ بڑے معاہدے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات 24 ستمبر کو متوقع ہے۔ رائٹرز کے مطابق دونوں رہنما تجارتی تعلقات سمیت ان معاملات پر مزید بات کر سکتے ہیں جن پر بیسنٹ اور ہی لیفینگ نے ابتدائی مذاکرات کیے ہیں۔
تجارتی جنگ بندی میں توسیع اور ممکنہ بڑے معاہدے کے علاوہ مصنوعی ذہانت کے حفاظتی معاملات سمیت دیگر اقتصادی امور بھی امریکا چین مذاکرات کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔
ابھی کسی نئے بڑے تجارتی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا۔ موجودہ پیش رفت امریکی آمادگی اور دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ حتمی فیصلوں کا انحصار آئندہ اعلیٰ سطحی مذاکرات پر ہوگا۔
ماخذ: رائٹرز، 23 ستمبر 2026۔


