World
امریکا ایران میں بڑا سفارتی رابطہ، عراقچی اور وٹکوف کی 3 گھنٹے ملاقات، نیویارک میں اہم پیش رفت؟
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر عباس عراقچی اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان نیویارک میں تقریباً تین گھنٹے کی ملاقات ہوئی، جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے “بہت اچھی” قرار دیا۔
By Site Administrator·September 22, 2026·1 min read·20 views

علامتی تصویر
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکا اور ایران کے درمیان اہم سفارتی رابطہ سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان نیویارک میں ملاقات ہوئی، جو تقریباً تین گھنٹے جاری رہی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کو “بہت اچھی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور دونوں ممالک کسی ممکنہ تصفیے کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عراقچی نے ملاقات کے دوران تہران کا مؤقف اور شرائط امریکی فریق تک پہنچائیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے کو بھی سفارتی رابطوں میں اہم قرار دیا گیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے تو ایران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔ ایرانی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ نیویارک میں موجود ایرانی وفد کے پاس امریکا کے ساتھ سفارت کاری دوبارہ شروع کرنے کا مکمل اختیار ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے اسی روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔ اس کے باوجود نیویارک میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان طویل سفارتی رابطہ ہوا۔
ابھی تک کسی حتمی معاہدے یا جنگ کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم سخت بیانات کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان یہ رابطہ آئندہ سفارتی عمل کے لیے اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کو “بہت اچھی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور دونوں ممالک کسی ممکنہ تصفیے کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عراقچی نے ملاقات کے دوران تہران کا مؤقف اور شرائط امریکی فریق تک پہنچائیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے کو بھی سفارتی رابطوں میں اہم قرار دیا گیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے تو ایران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔ ایرانی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ نیویارک میں موجود ایرانی وفد کے پاس امریکا کے ساتھ سفارت کاری دوبارہ شروع کرنے کا مکمل اختیار ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے اسی روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔ اس کے باوجود نیویارک میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان طویل سفارتی رابطہ ہوا۔
ابھی تک کسی حتمی معاہدے یا جنگ کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم سخت بیانات کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان یہ رابطہ آئندہ سفارتی عمل کے لیے اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
#امریکا، ایران، عباس عراقچی، اسٹیو وٹکوف، ڈونلڈ ٹرمپ، اقوام متحدہ، جنرل اسمبلی، نیویارک، امریکا ایران تعلقات، عالمی خبریں


