امریکا کا تیسرا طیارہ بردار جنگی بیڑا ایران کی جانب روانہ، 9 ہزار اضافی فوجیوں کی تعیناتی
امریکا نے یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ طیارہ بردار جنگی جہاز اور دیگر بحری جہازوں پر مشتمل دستہ مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس تعیناتی میں تقریباً 9 ہزار اضافی اہلکار شامل ہیں، جس سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

علامتی تصویر
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی فوج تقریباً 9 ہزار اہلکاروں کو بحری جہازوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ بھیج رہی ہے۔ اس دستے میں 7 ہزار سے زائد ملاح اور تقریباً 2 ہزار امریکی میرینز شامل ہیں۔ امریکی حکام نے حساس فوجی کارروائیوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔
یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ اپنے جنگی گروپ کے ساتھ کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو سے روانہ ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ گائیڈڈ میزائل کروزر یو ایس ایس چوسن اور دیگر جنگی جہاز بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب یو ایس ایس میکِن آئی لینڈ پر مشتمل بحری دستے میں میرینز اور دو دیگر بحری جہاز شامل ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس بحری دستے کی آمد کے بعد خطے میں امریکی طیارہ بردار جنگی بیڑوں کی تعداد تین تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم یہ تعداد اس بات پر بھی منحصر ہوگی کہ پہلے سے موجود جہازوں میں سے کوئی بیڑا نئے جہاز کی آمد سے قبل واپس روانہ ہوتا ہے یا نہیں۔ بعض رپورٹس میں نئی تعیناتی کی آمد اکتوبر کے آخر جبکہ دیگر میں نومبر کے آخر تک متوقع بتائی گئی ہے۔
اس وقت خطے میں یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش اور یو ایس ایس جارج واشنگٹن طیارہ بردار جنگی جہاز موجود ہیں۔ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کی آمد سے امریکی بحری موجودگی میں مزید اضافہ ہوگا، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ وہ موجودہ بیڑوں کے ساتھ طویل مدت تک تعینات رہے گا یا کسی جہاز کی جگہ لے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ مزید فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کر چکے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹرمپ نے نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملوں میں اضافے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا، اگر دونوں ملکوں کے درمیان کوئی قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا۔
امریکی فوجی نقل و حرکت خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے، تاہم اضافی بحری جہازوں اور اہلکاروں کی روانگی کو ایران پر فوری حملے کا حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ امریکی حکام کی جانب سے اس تعیناتی کی وضاحت فوجی موجودگی میں اضافے کے طور پر کی گئی ہے، جبکہ آئندہ امریکی اقدامات کا انحصار خطے کی صورتحال اور سفارتی پیش رفت پر ہوگا۔
ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس، فنانشل ٹائمز


