ٹرمپ کی روس، یوکرین سے توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کی اپیل، معاہدے کی تصدیق نہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان توانائی تنصیبات پر حملے روکنے سے متعلق جنگ بندی کا دعویٰ کیا ہے، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ یوکرین نے حملے روکنے کو روس کے اسی نوعیت کے اقدام سے مشروط کیا ہے۔

علامتی تصویر
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ روس اور یوکرین توانائی جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں اور یہ فوری طور پر مؤثر ہوگی۔ تاہم انہوں نے معاہدے کی تفصیلات، اس کی شرائط یا نگرانی کے طریقۂ کار کی وضاحت نہیں کی۔
دوسری جانب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ روس بھی یوکرین کی توانائی تنصیبات پر حملے بند کرے۔ ان کے مطابق کشیدگی میں کمی کے لیے دونوں جانب سے اقدامات اور قابلِ اعتماد ضمانتیں ضروری ہیں۔
توانائی تنصیبات پر حملوں کا معاملہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ ان حملوں سے بجلی کی پیداوار، ایندھن کی فراہمی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کے خدشات بڑھتے ہیں۔
فی الحال یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کسی باضابطہ اور قابلِ عمل معاہدے پر اتفاق ہوا ہے یا نہیں۔ اس لیے اس پیش رفت کو مکمل جنگ بندی یا جنگ کے خاتمے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
ماخذ: رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس۔


