بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے 7 ساتھیوں کو سزائے موت
بنگلہ دیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی جولائی تحریک کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری عبیدالقادر سمیت 7 رہنماؤں کو غیرحاضری میں سزائے موت سنا دی۔

علامتی تصویر
تین رکنی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل-2 نے 15 ستمبر 2026 کو فیصلہ سنایا۔ عدالت کی سربراہی جسٹس محمد نذرالاسلام چوہدری نے کی، جبکہ دیگر دو ارکان میں جسٹس محمد منظورالباسط اور جسٹس نور محمد شاہریار کبیر شامل تھے۔
عدالت نے ساتوں ملزمان کو 2024 کی جولائی تحریک کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم، قتل، قتل پر اکسانے، اشتعال دلانے اور سازش سمیت الزامات میں مجرم قرار دیا۔ تمام ساتوں افراد کی غیرحاضری میں مقدمہ چلایا گیا۔
سزائے موت پانے والوں میں عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری عبیدالقادر، پارٹی کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری اے ایف ایم بہاؤالدین نصیم، سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات محمد علی عرفات، جوبو لیگ کے صدر شیخ فضل شمس پراش، جنرل سیکریٹری مینول حسین خان نکھل، چھاترا لیگ کے صدر صدام حسین اور جنرل سیکریٹری شیخ ولی عاصف عنان شامل ہیں۔
بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے مطابق یہ فیصلہ 2024 کی جولائی اور اگست کی بڑے پیمانے پر ہونے والی تحریک سے متعلق مقدمات کی کارروائی کا ساتواں بڑا فیصلہ ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی اور اگست 2024 کے دوران بنگلہ دیش میں ہونے والے احتجاج اور کریک ڈاؤن میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی 15 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور وہ اگست 2024 میں بھارت چلی گئی تھیں۔
شیخ حسینہ کو نومبر 2025 میں بھی اسی تحریک سے متعلق مقدمے میں ان کی غیرحاضری میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ سابق وزیر داخلہ اسدالزمان خان کمال کو بھی اسی مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔
تازہ فیصلے کے بعد 2024 کی تحریک سے متعلق انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات میں سزا پانے والے افراد کی مجموعی تعداد 68 ہوگئی ہے۔ ان میں سے 22 افراد کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ ان 22 افراد میں سے 18 مفرور ہیں جبکہ 4 زیرحراست ہیں۔
ٹریبونل نے تازہ مقدمے میں عبیدالقادر، بہاؤالدین نصیم، محمد علی عرفات، شیخ فضل شمس پراش اور مینول حسین خان نکھل کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کا 50 فیصد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ عدالت کے مطابق یہ اثاثے احتجاج کے دوران ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کو معاوضے کی صورت میں دیے جائیں گے۔
چیف پراسیکیوٹر محمد امین الاسلام نے فیصلے کے بعد کہا کہ اگر ساتوں سزا یافتہ افراد کے ٹھکانے کا پتا چلتا ہے تو انہیں بنگلہ دیش واپس لانے اور عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
دفاعی وکلا نے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ عبیدالقادر، بہاؤالدین نصیم اور محمد علی عرفات کے دفاعی وکیل محمد حسن امام نے کہا کہ مکمل فیصلہ دیکھنے کے بعد اپیل کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ سابق حکمران جماعت عوامی لیگ کے کئی اہم رہنما 2024 کے احتجاج سے متعلق مقدمات میں اب تک مختلف سزاؤں کا سامنا کر چکے ہیں۔


