بھارت میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاج میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی قومی صدر نیہا بورا نمایاں رہنما کے طور پر سامنے آئی ہیں اور متعدد مواقع پر پولیس کی جانب سے حراست میں لی جا چکی ہیں۔
نئی دہلی: بھارت میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاج میں طلبہ رہنما نیہا بورا بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی قومی صدر ہیں اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے معاملے پر ہونے والے مظاہروں میں سرگرم رہی ہیں۔
نئی دہلی میں احتجاج کے دوران نیہا بورا متعدد مرتبہ پولیس کی حراست میں جا چکی ہیں۔ 3 اکتوبر کو وہ دیگر مظاہرین کے ہمراہ جنتر منتر کی جانب مارچ کر رہی تھیں جب انہیں پولیس نے حراست میں لیا۔ اس سے ایک روز قبل بھی وہ احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے مظاہرین میں شامل تھیں۔
اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق احتجاج کے تیسرے روز بھی نیہا بورا سمیت تقریباً 120 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔ اس موقع پر وہ پولیس بیریکیڈ عبور کرنے کی کوشش کرنے والے طلبہ کارکنوں کے ساتھ موجود تھیں۔
احتجاج کا مرکزی معاملہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی ہے۔ اپوزیشن اور احتجاجی گروہوں کا الزام ہے کہ اس عمل میں ووٹرز کے حقوق متاثر ہوئے ہیں اور وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور بھارتیہ جنتا پارٹی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
نیہا بورا کا کردار اس لیے بھی نمایاں ہے کہ موجودہ احتجاج میں طلبہ تنظیمیں، سول سوسائٹی گروپس، نوجوان کارکن اور بڑی اپوزیشن جماعتیں ایک ہی مطالبے کے مختلف پلیٹ فارمز پر احتجاج کر رہی ہیں۔ 7 اکتوبر کو بورا نے دیگر طلبہ تنظیموں اور کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوں کے ساتھ پریس کانفرنس میں 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر مشترکہ احتجاج کے حوالے سے بھی بات کی۔
دریں اثنا 8 اکتوبر کو بھارتی اپوزیشن کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا اور راہول گاندھی سمیت اپوزیشن رہنما بھی احتجاج میں شریک ہوئے۔ اس طرح نیہا بورا کی طلبہ قیادت اور اپوزیشن کے وسیع تر احتجاج کے درمیان ایک نمایاں رابطہ سامنے آتا ہے۔