بھارت میں الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج، راہول گاندھی سمیت اپوزیشن رہنما حراست میں
بھارت میں انتخابی فہرستوں میں تبدیلی کے تنازع پر الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔ نئی دہلی میں راہول گاندھی اور متعدد اپوزیشن رہنماؤں کو پولیس نے حراست میں لے لیا، جبکہ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

علامتی تصویر
رائٹرز کے مطابق 7 اکتوبر کو راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن ارکان کو دو روز کے دوران تیسری مرتبہ حراست میں لیا گیا۔ احتجاج انتخابی فہرستوں میں جاری متنازع نظرثانی کے خلاف کیا جا رہا ہے، جس پر اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔
راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنما نئی دہلی میں احتجاج کے لیے جنتر منتر کی جانب جا رہے تھے، جہاں مظاہروں کی اجازت ہے۔ پولیس نے ان کے قافلے کا راستہ تبدیل کیا اور بعد ازاں راہول گاندھی، پریانکا گاندھی اور دیگر رہنماؤں کو گاڑیوں میں منتقل کر دیا۔
احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی اہلکار بھی تعینات کیے گئے۔ مظاہرین نے انتخابی فہرستوں میں تبدیلی کے خلاف نعرے لگائے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا۔
یہ احتجاج صرف کانگریس یا مرکزی اپوزیشن جماعتوں تک محدود نہیں رہا۔ طلبہ گروپس اور نوجوانوں کی ’کاکروچ‘ تحریک بھی انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف احتجاج میں شامل ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران نئی دہلی اور ممبئی سمیت مختلف مقامات پر احتجاج اور گرفتاریاں یا حراست کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
تنازع کا مرکز ملک بھر میں جاری انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کا عمل ہے۔ اپوزیشن اور احتجاجی گروپس کا الزام ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں لاکھوں اہل ووٹرز کے نام فہرستوں سے خارج ہو سکتے ہیں اور اس سے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
بھارتی الیکشن کمیشن اور بھارتیہ جنتا پارٹی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا مقصد جعلی، غیر اہل، مردہ یا دہرے اندراجات کو ختم کرنا اور اہل ووٹرز کو فہرستوں میں برقرار رکھنا ہے۔
رائٹرز کے مطابق الیکشن کمیشن نے ووٹر فہرستوں کے معاملے پر اپنے اندرونی اختلافات سے متعلق خبروں کو مختلف آرا اور مشاورت کا معاملہ قرار دیا ہے، جبکہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے احتجاجی مطالبات پر عوامی طور پر کوئی تفصیلی جواب نہیں دیا۔
تازہ احتجاج بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج بن گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا عمل روکا جائے اور الیکشن کمیشن کی شفافیت و خودمختاری یقینی بنائی جائے۔
دوسری جانب حکومت اور الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل میں کسی سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا جا رہا۔


