بھارت کا احتجاج بنگلورو تک پہنچ گیا، دھروو راٹھی اور پرکاش راج بھی میدان میں
بھارت میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے خلاف احتجاج بنگلورو تک پہنچ گیا، جہاں فریڈم پارک میں بڑی تعداد میں مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور SIR عمل واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

علامتی تصویر
احتجاج میں معروف یوٹیوبر اور سیاسی و سماجی مبصر دھروو راٹھی جبکہ اداکار و سماجی کارکن پرکاش راج بھی شریک ہوئے۔ مظاہرین نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ناموں کے اخراج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے SIR عمل واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
بنگلورو کے احتجاج میں طلبہ، خواتین، سول سوسائٹی کے کارکنوں اور دیگر مظاہرین نے شرکت کی۔ احتجاج کے دوران انتخابی فہرستوں سے متعلق مختلف نعروں اور مطالبات پر مبنی پلے کارڈز بھی اٹھائے گئے۔
یہ احتجاج بھارت میں گزشتہ کئی روز سے جاری اس سیاسی تنازع کی نئی کڑی ہے جس میں اپوزیشن اور احتجاجی گروپس انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن اور حکمران جماعت بی جے پی کا مؤقف ہے کہ SIR کا مقصد ووٹر فہرستوں سے جعلی، غیر اہل، مردہ یا دہرے اندراجات کو ختم کرنا ہے۔
بنگلورو کا احتجاج اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اس میں معروف عوامی شخصیات کی شرکت سے یہ معاملہ مزید نمایاں ہوا ہے۔ احتجاجی تحریک سے وابستہ گروپس نے 10 اکتوبر کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مزید احتجاج کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
بھارت میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا معاملہ اب محض انتخابی انتظامیہ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے درمیان ایک بڑا سیاسی تنازع بن چکا ہے۔


