برکس نے مشترکہ اعلامیہ اپنایا، مشرق وسطیٰ میں 'زیادہ سے زیادہ تحمل' کی اپیل
برکس ممالک نے نئی دہلی میں اجلاس کے پہلے روز مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں جنگ پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل برتنے کا مطالبہ کیا۔

علامتی تصویر
نئی دہلی: برکس ممالک کے گروپ نے ہفتہ کو متفقہ طور پر ایک مشترکہ اعلامیہ اپنایا ہے جس میں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ پر "گہری تشویش" کا اظہار کیا گیا اور تمام فریقین سے "زیادہ سے زیادہ تحمل" برتنے کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ اعلامیہ نئی دہلی میں برکس رہنماؤں کے سالانہ اجلاس کے پہلے روز اپنایا گیا۔ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران نے اگست میں لڑائی میں وقفے کے بعد ایک دوسرے کے خلاف دوبارہ جوابی حملے شروع کر دیے ہیں۔
'نئی دہلی اعلامیہ' میں کہا گیا: "ہم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے مسلسل بڑھنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں... زیادہ سے زیادہ تحمل برتنے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔"
اعلامیے میں رکن ممالک نے بین الاقوامی تنازعات کے "مکالمے، مشاورت اور سفارت کاری" کے ذریعے پرامن حل کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
برکس رہنماؤں نے "یکطرفہ محصولات اور غیر محصولات اقدامات" کے بڑھنے پر بھی تشویش ظاہر کی جو تجارت کو مسخ کرتے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ نے ایران پر اس کی جنگ کے پس منظر میں اور روس پر یوکرین تنازعہ پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
میزبان بھارت کے لیے ایران اور امریکہ کے اتحادی متحدہ عرب امارات دونوں کے برکس کا حصہ ہونے کی وجہ سے مشترکہ بیان پر اتفاق رائے کرنا ایک خاصا چیلنج تھا۔
برکس میں اس وقت برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔


