چین کا آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ، ایرانی حملوں سے امریکی اڈوں کو 3.7 ارب ڈالر کے بڑے نقصان کی نئی تصاویر جاری
چین نے ایران اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں اور آبنائے ہرمز کو جلد کھولنے کے لیے اقدامات کریں، دوسری جانب امریکی میڈیا نے ایرانی حملوں سے امریکی اڈوں کو 3.7 ارب ڈالر نقصان کی نئی تصاویر جاری کر دی ہیں۔

علامتی تصویر
وانگ یی نے تمام متعلقہ فریقوں سے آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی اور روانی برقرار رکھنا اور عالمی توانائی کی ترسیل و سپلائی چین کے استحکام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
چین نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی مزید پھیل کر یمن اور بحیرہ احمر تک نہ پہنچ جائے۔ بیجنگ نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے سے گریز کیا جائے اور تنازعات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ چین ایران کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے یہ بات بیجنگ میں ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران کہی۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی نے کہا کہ امریکہ اور ایران کو عقلی رویہ اختیار کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور باہمی تشویش کے معاملات پر بامعنی مذاکرات کرنے چاہئیں۔
وانگ یی نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا طول پکڑنا فریقین اور عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں نہیں۔ چین نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں، اب تک حاصل کیے گئے اتفاق رائے کی بنیاد پر مذاکراتی نظام کو دوبارہ فعال کریں اور اپنے تحفظات پر مشاورت کریں۔
انہوں نے کہا کہ چین اور ایران جامع اسٹریٹجک شراکت دار ہیں اور بیجنگ ایران کے ساتھ مذاکرات اور تعاون مزید مضبوط کرکے اس کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اگلے ہفتے واشنگٹن میں متوقع ملاقات سے قبل ایران کے معاملے پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے فعال امریکی فوجیوں سے حاصل ہونے والی نئی تصاویر جاری کی ہیں جن میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات، عمارتوں، گاڑیوں اور طیاروں کو پہنچنے والے نقصانات دکھائے گئے ہیں۔
سی بی ایس کے مطابق سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئربیس کی ایک تصویر میں بوئنگ E-3 سینٹری طیارے کا پچھلا حصہ تباہ شدہ دکھائی دیتا ہے جبکہ کویت کے کیمپ بُرنگ اور دیگر امریکی تنصیبات سے حاصل تصاویر میں عمارتوں اور گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصانات بھی نظر آرہے ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی فوج کو 3.7 ارب ڈالر تک کے سازوسامان کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جن میں تقریباً 60 طیارے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا پس منظر:
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جون 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کے لیے سامنے آئی تھی، جس میں پاکستان اور قطر نے ثالث کا کردار ادا کیا۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے 18 جون کو اس مفاہمت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے اور دنیا کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔
بعد ازاں 22 جون کو پاکستان اور قطر کے مشترکہ بیان کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے نمائندوں کی شرکت سے اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے، جن میں تکنیکی مذاکرات کے لیے طریقہ کار واضح کرنے اور ثالثی کے عمل کی سیاسی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔


