چین میں بڑا فوجی ایکشن، دو اعلیٰ جنرلز کو پارٹی اور فوج سے نکال دیا گیا
چین نے اعلیٰ فوجی قیادت کے دو اہم جنرلز ژانگ یوشیا اور لیو ژنلی کو کمیونسٹ پارٹی اور فوج سے خارج کردیا۔ دونوں کے خلاف بے وفائی، کرپشن اور سنگین نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

علامتی تصویر
چینی حکام کے مطابق دونوں جنرلز کے خلاف بے وفائی، کرپشن، سیاسی نظم و ضبط کی خلاف ورزی، اختیارات کے غلط استعمال اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کی تحقیقات کی گئی تھیں۔ ان کے مقدمات کو مزید قانونی کارروائی کے لیے فوجی استغاثہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ژانگ یوشیا مرکزی فوجی کمیشن کے نائب چیئرمین اور چین کی فوجی کمانڈ میں صدر ژی جن پنگ کے بعد اہم ترین عہدوں میں سے ایک پر فائز تھے۔ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی پولٹ بیورو کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ لیو ژنلی مرکزی فوجی کمیشن کے رکن اور جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ تھے۔
دونوں کے خلاف تحقیقات کا اعلان جنوری 2026 میں کیا گیا تھا، جبکہ اگست کے آخر میں انہیں مرکزی فوجی کمیشن سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔ 21 ستمبر کو ہونے والے اعلان کے بعد دونوں کو پارٹی اور فوج سے باقاعدہ خارج کردیا گیا۔
یہ کارروائی چین کی فوج میں جاری احتساب اور نظم و ضبط کی مہم کے دوران سامنے آئی ہے، جس میں حالیہ برسوں میں کئی اعلیٰ فوجی عہدیداروں کے خلاف کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔
تجزیہ:
ژانگ یوشیا کی حیثیت کو دیکھتے ہوئے یہ کارروائی چینی فوج کی اعلیٰ قیادت میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ تاہم اس کے سیاسی یا عسکری اثرات کے بارے میں حتمی نتائج اخذ کرنے کے لیے مزید سرکاری اقدامات اور تفصیلات کا سامنے آنا ضروری ہوگا۔


