چین نے تیل مصنوعات کی برآمدات روک دیں، عالمی منڈی میں خام تیل 101 ڈالر سے تجاوز کر گیا
چین کی جانب سے ہانگ کانگ اور مکاؤ کے علاوہ دیگر منڈیوں کے لیے تیل مصنوعات کی برآمدات روکنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 101 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

علامتی تصویر
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چینی حکام نے ریفائنریوں کو تیل مصنوعات کی برآمدات روکنے کی ہدایت دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس فیصلے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی بیرون ملک ترسیل متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ہانگ کانگ اور مکاؤ کو اس پابندی سے استثنا دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین کی سرکاری تیل کمپنی پیٹروچائنا نے اکتوبر کے لیے پیٹرول اور جیٹ فیول کی بعض برآمدی کھیپیں بھی منسوخ کر دی ہیں۔ اس اقدام سے ایشیائی منڈیوں میں پیٹرول، ڈیزل اور ہوابازی کے ایندھن کی دستیابی پر ممکنہ اثرات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 101 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جس سے توانائی کی عالمی منڈی میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
چین کے اس فیصلے کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ برآمدات کی معطلی کتنی مدت تک جاری رہتی ہے اور عالمی منڈی میں متبادل رسد کس حد تک دستیاب ہوتی ہے۔ اگر چینی مصنوعات کی برآمدات طویل عرصے تک محدود رہیں تو ان ممالک کو متبادل ذرائع سے ایندھن حاصل کرنا پڑ سکتا ہے جو چینی سپلائی پر انحصار کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ درآمدی ممالک کے لیے توانائی کے اخراجات بڑھا سکتا ہے، جس کے اثرات نقل و حمل، بجلی کی پیداوار اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم چین کے فیصلے کے مجموعی اثرات کا تعین آئندہ دنوں میں عالمی رسد، طلب اور قیمتوں کی صورتحال سے ہوگا۔


