چین کا تجارتی ’’سپر ویپن‘‘ ناکام ہوگیا؟
رائٹرز کی تحقیق کے مطابق چین کا عالمی تجارتی لاجسٹکس ڈیٹا پلیٹ فارم ایل او جی انک بین الاقوامی سطح پر متوقع وسعت حاصل نہ کرسکا، اس کی اہم شراکت داریاں رک گئیں اور عالمی سرگرمیاں نمایاں طور پر سکڑ گئیں۔

علامتی تصویر
رائٹرز کی 5 اکتوبر 2026 کی خصوصی تحقیق کے مطابق امریکا نے کئی برس قبل خدشہ ظاہر کیا تھا کہ چین کا یہ ریاستی حمایت یافتہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم دنیا بھر میں تیزی سے پھیل کر بیجنگ کو عالمی کارگو کی نقل و حرکت کے بارے میں غیر معمولی معلومات فراہم کرسکتا ہے۔
ایل او جی انک کا مقصد کسٹمز حکام، بندرگاہوں اور دیگر نقل و حمل کی خدمات سے متعلق لاجسٹکس ڈیٹا کو ایک ڈیجیٹل نظام کے ذریعے باہم جوڑنا تھا، تاکہ عالمی شپنگ کے عمل کو زیادہ مربوط اور تیز بنایا جاسکے۔
تاہم رائٹرز کے مطابق منصوبے کی عالمی توسیع توقع کے مطابق آگے نہیں بڑھ سکی۔ اس کی اہم بین الاقوامی شراکت داریاں رک گئیں، یہ ایک بین الاقوامی بحری تنظیم کی رکنیت سے الگ ہوگیا اور چین کے اندر بھی اس سے متعلق واجبات اور معاہدوں کے حوالے سے متعدد قانونی مقدمات سامنے آئے۔
رائٹرز کے صحافی نے ستمبر میں چین کے شہر وینژو میں ایل او جی انک کے آپریشنز مرکز کا دورہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق وہاں دفتر بظاہر غیر فعال دکھائی دیا، لائٹس بند تھیں، استقبالیہ خالی تھا اور کمپیوٹر کی تاریں بھی ہٹائی جاچکی تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایل او جی انک کی ویب سائٹ بھی تقریباً 2024 میں غیر فعال ہوگئی تھی۔ بین الاقوامی پورٹ کمیونٹی سسٹمز ایسوسی ایشن کے جنرل مینیجر نے رائٹرز کو بتایا کہ ایل او جی انک اب اس تنظیم کا رکن نہیں اور بین الاقوامی ڈیٹا شیئرنگ منصوبہ فی الحال غیر فعال ہے۔
چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان ایل او جی انک سے متعلق ایک اہم ڈیٹا شیئرنگ منصوبہ بھی آگے نہیں بڑھ سکا۔ رائٹرز کے مطابق جاپان کو بعد میں ایل او جی انک کے ڈیٹا تک رسائی حاصل ہونا بھی بند ہوگیا۔
یورپ میں بھی چین کو اس منصوبے کے ذریعے نمایاں پیش رفت حاصل نہیں ہوسکی۔ پرتگال کی بندرگاہ سائنز اور نیدرلینڈز کی بندرگاہ روٹرڈیم سے متعلق ابتدائی مفاہمتی معاہدے عملی تعاون میں تبدیل نہیں ہوسکے۔
امریکی حکام اور سکیورٹی ماہرین کو خدشہ تھا کہ ایل او جی انک کے ذریعے چین کو تجارتی سامان، حجم اور قیمتوں سے متعلق غیر عوامی معلومات حاصل ہوسکتی ہیں، جبکہ بعض ماہرین نے حساس فوجی سامان کی تجارتی راستوں سے نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے امکان کا بھی اظہار کیا تھا۔
رائٹرز کے مطابق یہ واضح نہیں ہوسکا کہ چین کی جانب سے اہم منصوبے کے طور پر پیش کیا جانے والا ایل او جی انک اچانک عالمی سطح پر پیچھے کیوں ہٹ گیا۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کی بین الاقوامی پسپائی ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا اپنے اتحادیوں اور مختلف عالمی اداروں پر چین کے اس پلیٹ فارم کے ساتھ تعاون کے حوالے سے دباؤ ڈال رہا تھا۔


