چین کا ٹرمپ پر بڑا دباؤ، شی جن پنگ تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت رکوانے پر زور دیں گے
چینی صدر شی جن پنگ واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہ کرنے کی توقع ہے، جبکہ بیجنگ پہلے سے منظور شدہ ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کا معاملہ بھی اٹھا سکتا ہے۔

علامتی تصویر
رپورٹ کے مطابق شی جن پنگ اس معاملے کو 1982 کے امریکا-چین مشترکہ اعلامیے سے جوڑ سکتے ہیں، جس میں امریکا نے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت بتدریج کم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ چین اس معاملے کو امریکا کے ساتھ تعلقات میں انتہائی حساس مسئلہ سمجھتا ہے۔
بیجنگ کی جانب سے صرف مستقبل کی اسلحہ فروخت ہی نہیں بلکہ تائیوان کے لیے پہلے سے منظور شدہ امریکی ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کا مطالبہ بھی کیے جانے کی توقع ہے۔ رائٹرز کے مطابق تائیوان کے لیے تقریباً 14 ارب ڈالر کا ایک نیا امریکی اسلحہ پیکیج پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے۔
امریکا اور چین کے درمیان ہونے والی آئندہ اعلیٰ سطحی ملاقات میں تائیوان کے علاوہ تجارت، مصنوعی ذہانت اور ایران سمیت کئی اہم معاملات بھی زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔ اے پی کے مطابق تائیوان کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان اہم اختلافات میں شامل ہے۔
تاہم اہم بات یہ ہے کہ ابھی امریکی حکومت کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا کوئی نیا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ موجودہ خبر شی جن پنگ کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے یہ مطالبہ اٹھانے کی متوقع کوشش سے متعلق ہے۔
تائیوان چین اور امریکا کے درمیان طویل عرصے سے ایک حساس جغرافیائی اور سیاسی مسئلہ ہے۔ بیجنگ تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ امریکا تائیوان کے دفاع کے لیے اسلحہ فراہم کرتا رہا ہے۔ یہی معاملہ دونوں عالمی طاقتوں کے تعلقات میں مسلسل کشیدگی کا باعث بنتا رہا ہے۔


