دہلی میں احتجاج کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، ممتا بنرجی اور ابھیجیت ڈپکے سمیت متعدد رہنما حراست میں
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج سے پہلے پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائی کی۔ رائٹرز اور بھارتی میڈیا کے مطابق احتجاجی تحریک کے رہنما ابھیجیت ڈپکے اور ممتا بنرجی سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ انتخابی فہرستوں پر تنازع شدت اختیار کر گیا۔

علامتی تصویر
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق احتجاجی تحریک کا تعلق کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) سے ہے، جس نے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے معاملے کو بنیاد بناتے ہوئے دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرے کا اعلان کیا تھا۔ پولیس نے اس احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے کو دہلی پہنچنے پر ہوائی جہاز میں ہی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پارٹی کے دیگر رہنماؤں سورَو داس اور اشوتوش رانکا کو بھی حراست میں لیا گیا۔ ڈپکے کی حراست کی خبر رائٹرز سمیت متعدد ذرائع نے رپورٹ کی۔
ممتا بنرجی، جو مغربی بنگال کی سابق وزیرِاعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی اہم رہنما ہیں، کے بارے میں بھی بھارتی میڈیا نے احتجاج سے متعلق کارروائی کے دوران حراست میں لیے جانے کی خبر دی۔ تاہم حراست اور باقاعدہ گرفتاری میں قانونی فرق ہوتا ہے، جبکہ ان رہنماؤں کی بعد کی صورتحال کی الگ تصدیق ضروری ہے۔
احتجاج کو روکنے کے لیے دہلی میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی۔ شہر کے اہم مقامات پر بیریکیڈز لگائے گئے، ٹریفک کی نقل و حرکت محدود کی گئی اور کئی میٹرو اسٹیشنوں کو بند رکھنے کے اقدامات کیے گئے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق احتجاجی علاقے کے قریب موبائل انٹرنیٹ کی عارضی معطلی کا حکم بھی دیا گیا، جبکہ طویل فاصلے کی بعض ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوئی۔ ان اقدامات سے دارالحکومت میں شہریوں کی نقل و حرکت اور معمولاتِ زندگی پر بھی اثر پڑا۔
احتجاج کرنے والے گروپ اور اپوزیشن کے بعض رہنما انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے عمل پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں۔ ناقدین کا الزام ہے کہ اس عمل کے دوران بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام فہرستوں سے نکالے گئے اور اس سے انتخابی شفافیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹس میں تقریباً 13 کروڑ ناموں کے اخراج کا عدد زیرِ بحث آیا ہے، لیکن اس عدد کو اس بات کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا کہ اتنی ہی تعداد میں اہل ووٹروں کے نام غیرقانونی طور پر حذف کیے گئے۔ نظرثانی کے عمل میں منتقل ہونے والے، وفات پا جانے والے یا تصدیق نہ ہو سکنے والے افراد کے نام بھی زیرِ غور آئے ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور الیکشن کمیشن انتخابی فہرستوں میں جان بوجھ کر سیاسی فائدے کے لیے ردوبدل کے الزامات مسترد کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی انتخابی ریکارڈ کی تصدیق اور درستگی کے لیے کی جاتی ہے۔
دوسری جانب احتجاج کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات کا شفاف جواب دینا ضروری ہے۔ پولیس کی جانب سے احتجاج کی اجازت نہ دینے پر بھی اختلاف سامنے آیا؛ حکام نے اجازت کے طریقۂ کار اور سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیا، جبکہ منتظمین نے احتجاج کے حق پر زور دیا۔


