بھارتی دارالحکومت دہلی میں انتخابی فہرستوں پر تنازع، بڑے احتجاج سے پہلے سکیورٹی سخت
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں انتخابی فہرستوں پر تنازع کے باعث احتجاج سے پہلے سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل میں جان بوجھ کر ردوبدل کے الزامات مسترد کرتے ہیں۔

علامتی تصویر
تنازع کی بنیادی وجہ ووٹر فہرستوں کی جانچ اور نظرثانی کا عمل ہے، جس کے دوران انتخابی فہرستوں سے تقریباً 13 کروڑ نام حذف کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ انتخابی کمیشن کے اعداد و شمار کے حوالے سے رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ حذف کیے گئے ناموں میں تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ ایسے افراد شامل تھے جو دوسری جگہ منتقل ہو چکے تھے، 3 کروڑ افراد کا سراغ نہیں مل سکا تھا، جبکہ تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ افراد کو فوت شدہ قرار دیا گیا تھا۔
اپوزیشن جماعتوں اور حکومت کے ناقدین کا الزام ہے کہ اس عمل سے بعض علاقوں اور ووٹر گروہوں کے حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کو سیاسی فائدہ مل سکتا ہے۔ تاہم، تقریباً 13 کروڑ ناموں کے اخراج کا مجموعی عدد بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ اتنی ہی تعداد میں اہل ووٹروں کے نام غیرقانونی طور پر حذف کیے گئے۔ اس معاملے پر انتخابی عمل کی شفافیت اور ناموں کے اخراج کے طریقۂ کار سے متعلق اختلاف برقرار ہے۔
بھارتی الیکشن کمیشن اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابی فہرستوں میں جان بوجھ کر ردوبدل یا سیاسی فائدے کے لیے ووٹروں کے نام حذف کرنے کے الزامات مسترد کیے ہیں۔ بی جے پی کا مؤقف ہے کہ انتخابی کامیابی کی وجوہات میں وزیرِاعظم نریندر مودی کی مقبولیت اور ملک کی معاشی ترقی شامل ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتیں انتخابی شکست کے بعد بے بنیاد الزامات لگا رہی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے اس تنازع پر خود کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا، رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق۔
یہ تنازع اس وقت مزید نمایاں ہوا جب اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ انتخابی کمیشن کے بعض اعلیٰ عہدیداروں نے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل سے متعلق سوالات اٹھائے اور کمشنر سے اختلاف کیا۔ اس رپورٹ کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی عمل پر اپنے تحفظات دوبارہ سامنے رکھے۔
احتجاج سے پہلے حکام نے دارالحکومت میں آمدورفت محدود کرنے کے اقدامات کیے۔ رائٹرز کے مطابق جمعے کی رات سے دہلی کے 57 میٹرو اسٹیشن بند کیے گئے اور شہر آنے والی متعدد طویل فاصلے کی ٹرینیں منسوخ کی گئیں۔ احتجاجی مقام کے چار کلومیٹر کے دائرے میں موبائل انٹرنیٹ سروسز جمعے کی رات سے ہفتے کی رات تک معطل رکھنے کا حکم بھی رپورٹ ہوا۔ مرکزی دہلی میں بازاروں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور حساس مقامات پر سکیورٹی اہلکار تعینات رہے۔
ان اقدامات کے باعث شہریوں کی آمدورفت اور روزمرہ معمولات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔ حکام نے سکیورٹی انتظامات کو امن و امان برقرار رکھنے سے متعلق قرار دیا، جبکہ ناقدین کے نزدیک اتنی وسیع پابندیاں احتجاج میں شرکت اور عوامی اظہارِ رائے پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
دہلی پولیس نے جمعے کو کہا کہ احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی، کیونکہ منتظمین کی درخواست مقررہ وقت پر موصول نہیں ہوئی تھی اور پولیس کے مطابق تحریک نے سابقہ احتجاجوں کے دوران دی گئی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی بھی کی تھی۔ پولیس نے خبردار کیا کہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے پولیس کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنا ان کا بنیادی حق ہے اور وہ اپنے مطالبات سامنے رکھنے کے لیے مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ منتظمین نے ہفتے کی صبح نئی دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہونے کا اعلان کیا تھا، جو شہر میں احتجاج کے لیے مختص مقامات میں شامل ہے۔
ووٹر فہرستوں پر تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں آئندہ ریاستی انتخابات کی تیاریوں کا مرحلہ قریب آ رہا ہے۔ انتخابی فہرستوں میں ناموں کے اندراج، اخراج اور نظرثانی کا طریقۂ کار سیاسی بحث کا اہم موضوع بن چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں انتخابی اداروں سے شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ حکومت اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل میں دانستہ سیاسی مداخلت کے الزامات مسترد کرتے ہیں۔
دہلی میں احتجاج کے اصل شرکاء کی تعداد، پولیس کی مزید کارروائیوں اور حکام کے اگلے اقدامات سے متعلق دعووں کی تصدیق تازہ اور قابلِ اعتماد اطلاعات کی بنیاد پر ضروری ہے۔ اس معاملے کی اہمیت صرف احتجاج تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق ووٹرز کے اعتماد، انتخابی اداروں کی ساکھ اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں حقِ رائے دہی کے تحفظ سے بھی ہے۔


