فرانس میں طلبہ کے احتجاج میں شدت، اسکولوں میں آتش زدگی اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں
فرانس میں اساتذہ کی کمی، خستہ حال تعلیمی عمارتوں اور ناکافی سہولتوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا۔ بی بی سی کے مطابق ایک ہزار سے زائد ہائی اسکول متاثر ہوئے جبکہ متعدد شہروں میں آتش زدگی اور پولیس سے جھڑپوں کے واقعات بھی پیش آئے۔

علامتی تصویر
بی بی سی عربی کی 2 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق فرانس میں احتجاج کے دوران مختلف مقامات پر اسکولوں میں آگ لگنے کے واقعات بھی پیش آئے۔ مغربی شہر نانت میں دو ہائی اسکولوں میں آتش زدگی کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ شمالی شہر روان میں بھی ایک اسکول کے داخلی حصے میں آگ لگنے کا واقعہ رپورٹ ہوا۔
فرانس کی وزارت داخلہ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق احتجاج کے باعث ملک بھر میں 1,027 ہائی اسکول متاثر ہوئے، جن میں سے 222 اسکولوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق کم از کم 30 جامعات کے کیمپس بھی احتجاج یا ناکہ بندی سے متاثر ہوئے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی کمی ہے، کلاس رومز میں طلبہ کی تعداد گنجائش سے زیادہ ہے اور کئی تعلیمی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں۔ طلبہ بہتر تعلیمی وسائل، مناسب سہولتوں اور محفوظ تدریسی ماحول کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بی بی سی عربی کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو فرانس میں 1,949 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 305 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی کے باعث عوامی آمدورفت اور ٹرانسپورٹ کا نظام بھی متاثر ہوا۔
احتجاجی صورت حال پر فرانسیسی وزیر اعظم سباستیاں لیکورنو نے ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ حکومت نے مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد اور آتش زدگی پر تشویش ظاہر کی ہے، جبکہ حکام کی جانب سے صورت حال پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔
فرانس میں طلبہ کی یہ تحریک اب محض چند اسکولوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ملک کے مختلف شہروں میں تعلیمی نظام، سرکاری وسائل اور حکومت کی ذمہ داریوں سے متعلق سوالات اٹھا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں احتجاج کا دائرہ اور حکومتی ردعمل اس بحران کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔


