جی سیون کا بڑا فیصلہ، 10 کروڑ بیرل تیل کے ذخائر جاری کرنے پر اتفاق
عالمی توانائی منڈی میں قیمتوں کے دباؤ اور ایندھن کی فراہمی کے خدشات کے پیش نظر جی سیون ممالک نے چار ماہ کے دوران 10 کروڑ بیرل تیل اور ایندھن کے ذخائر جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ پہلے 20 دن میں ڈیزل کی بڑی مقدار جاری کی جائے گی۔

علامتی تصویر
2 اکتوبر کو ہونے والے جی سیون رہنماؤں کے آن لائن اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ ذخائر عالمی توانائی ایجنسی کے ذریعے مربوط انداز میں جاری کیے جائیں گے۔ منصوبے پر فوری عمل درآمد شروع ہوگا اور اس کا دورانیہ چار ماہ رکھا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ابتدائی 20 دن کے دوران ڈیزل کے ذخائر کی نمایاں مقدار جاری کی جائے گی۔ تاہم مجموعی 10 کروڑ بیرل میں خام تیل اور ڈیزل کی الگ الگ مقدار واضح نہیں کی گئی۔ عالمی توانائی ایجنسی اس منصوبے پر عمل درآمد اور توانائی کی منڈی پر اس کے اثرات کی نگرانی کرے گی۔
جی سیون رہنماؤں نے رکن ممالک کے درمیان توانائی اور ایندھن کی برآمدات پر پابندیاں عائد نہ کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔ اعلامیے میں دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو عالمی منڈی میں دباؤ مزید بڑھا سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت کی صورتحال نے عالمی توانائی کی فراہمی اور قیمتوں کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ جی سیون اعلامیے میں ایران سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے حقوق بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل اور ایندھن کے ذخائر جاری کرنے کے اقدام کا اعلان کیا، جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جی سیون اجلاس کی صدارت کی۔ فرانس اس وقت جی سیون کی گردشی سربراہی کر رہا ہے۔
اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ ذخائر سے تیل اور ڈیزل کی فراہمی کس رفتار سے شروع ہوتی ہے اور عالمی منڈی میں اس کے نتیجے میں قیمتوں اور رسد پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔


