قالیباف کا امریکا کو دوٹوک پیغام، ایران جنگ بھی لڑے گا اور مذاکرات بھی کرے گا
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران بیک وقت جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے ثالث کے ذریعے نئی تجاویز بھی بھیجی ہیں۔

علامتی تصویر
ایران انٹرنیشنل کی 4 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق قالیباف نے اتوار کو ایرانی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی کارروائیوں سے ایران نہ خوف زدہ ہے اور نہ ہی غیرضروری طور پر پرجوش۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران فوجی محاذ پر اپنے مخالفین کو نئے سرپرائز دے سکتا ہے، جبکہ سفارتی ذرائع بھی استعمال کرتا رہے گا۔
قالیباف نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے عوامی سطح پر مختلف مؤقف اختیار کرنے کے باوجود ایک ثالث کے ذریعے ایران کو نئی تجاویز بھیجی ہیں۔ ان کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے بعد امریکی تجاویز ثالث کے ذریعے سامنے آئیں۔ یہ دعویٰ قالیباف سے منسوب ہے؛ امریکی حکومت کی جانب سے ان مخصوص تجاویز کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ایرانی اسپیکر نے واضح کیا کہ تہران یکطرفہ مطالبات قبول نہیں کرے گا اور اس کے نزدیک مذاکرات کا مقصد ایرانی عوام کے حقوق اور قومی مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنی فوجی صلاحیت اور سفارتی ذرائع دونوں کو بروئے کار لائے گا۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی اس بیان کا اہم حصہ ہے۔ قالیباف نے ایک بار پھر کہا کہ جون میں طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے منسلک ایرانی شرائط پوری ہونے تک یہ اہم بحری گزرگاہ دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔ یہ شرائط پہلے بھی ایرانی حکام کی جانب سے بیان کی جا چکی ہیں، اس لیے تازہ پیش رفت کا بنیادی پہلو ان شرائط کا اعادہ نہیں بلکہ امریکا کی جانب سے ثالث کے ذریعے نئی تجاویز بھیجے جانے کا قالیباف کا دعویٰ اور بیک وقت جنگ و مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ اس کی بندش یا دوبارہ کھلنے سے متعلق کسی بھی پیش رفت کے عالمی توانائی منڈیوں اور خطے کی سلامتی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں قالیباف کا تازہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ایران فوجی دباؤ کے ساتھ سفارتی راستہ بھی اپنے مؤقف کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا ثالثوں کے ذریعے ہونے والی یہ سفارتی کوششیں امریکا اور ایران کے درمیان کسی نئے معاہدے کی راہ ہموار کر سکتی ہیں یا دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی برقرار رہے گی۔


