آبنائے ہرمز پر عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اجلاس پیر کو عمان میں ہوگا: ایرانی صدر
ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کے نئے فریم ورک پر حتمی معاہدے کے لیے پیر کو عمان میں 8 خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوگا

علامتی تصویر
انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ بھی شریک ہوں گے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے مطابق اجلاس میں شریک ممالک کو ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والے فریم ورک کی تفصیلات اور نئے بحری روٹس سے متعلق نقشے فراہم کیے جائیں گے۔
نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی ٹی وی چینل 'انڈیا ٹوڈے' کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے عالمی خدشات پر گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ ایران اور عمان پہلے ہی آبنائے ہرمز کے حوالے سے مخصوص فریم ورک پر اتفاق کرچکے ہیں۔ پیر کو عمان میں وزرائے خارجہ کے اجلاس میں عرب ممالک کو بھی اس معاملے پر اعتماد میں لیا جائے گا، جس کے بعد بین الاقوامی میری ٹائم ایجنسی کو بھی اس پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔
جمعے کے روز ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کی تھی کہ عمان پیر کے روز علاقائی ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ایک اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس میں 8 خلیجی ممالک بھی شرکت کریں گے۔
صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ امریکا حملے بند کردے تو اس سمندری راستے پر بین الاقوامی قوانین کے تحت آزادانہ نقل و حرکت بحال ہوسکتی ہے۔
خطے کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، روس اور چین سمیت اپنے کسی بھی پڑوسی ملک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر اعتراض ہے جنہیں ایران پر حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ عمان میں ہونے والے اجلاس میں آبنائے ہرمز میں نئے بحری روٹ کے قیام پر بات چیت ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اتفاق کا یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی گئی ہے۔


